مسند الشهاب
— احادیث401 سے 600
جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْهَا وَبُغْضِ مَنْ أَسَاءَ إِلَيْهَا باب: یہ فطری امر ہے کہ جو آدمی اچھا سلوک کرے ، دل اس کی طرف میلان رکھتا ہے اور جو آدمی بدسلوکی کرے ، دل اس سے نفرت کرتا ہے
600 - وَحَدَّثَ بِهِ شَيْخُنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، نا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيٍّ الْجُرْجَانِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الدَّسْتُوَائِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ الْكِنْدِيُّ، نا بَكَّارُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْعِيدِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ الْخَيَّاطُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: بَلَغَ الْحَسَنَ بْنَ عُمَارَةَ أَنَّ الْأَعْمَشَ، وَقَعَ فِيهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِكُسْوَةٍ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ مَدْحَهُ الْأَعْمَشُ، فَقِيلَ لَهُ: تَذُمَّهُ ثُمَّ تَمْدَحُهُ؟، فَقَالَ: إِنَّ خَيْثَمَةَ حَدَّثَنِي عَنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْقُلُوبَ جُبِلَتْ. وَذَكَرَهُ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ لَمْ أَكْتُبْهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الشَّيْخِ، وَهُوَ مَعْرُوفٌ عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْقُوفًااسماعیل بن خیاط رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حسن بن عمارہ کو پتا چلا کہ اعمش نے ان کے بارے میں کچھ ناروا تبصرہ کیا ہے تو حسن بن عمارہ نے کچھ کپڑے ان کو بھجوا دیے۔ اس کے بعد اعمش نے حسن بن عمارہ کے بارے میں توصیفی انداز اختیار کر لیا تو ان سے اس تبدیلی کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ پہلے تو آپ ان کی مذمت کرتے تھے اور اب ان کی مدح کر رہے ہیں؟ تو فرمایا، مجھ سے خیثمہ نے بروایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ فطری امر ہے کہ دل۔۔۔۔۔۔“ ابن عدی فرماتے ہیں: میں نے اس حدیث کو صرف اسی استاذ سے مرفوعاً تحریر کیا ہے ورنہ یہ حدیث اعمش سے موقوفاً معروف ہے۔