حدیث نمبر: 501
501 - أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوَالِيقِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي حُصَيْنٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزْجَانِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَرْضَى اللَّهَ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ النَّاسَ، وَمَنْ أَسْخَطَ اللَّهَ بِرِضَا النَّاسِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے لوگوں کو ناراض کر کے اللہ کو راضی کیا اللہ اسے کافی ہوگا اور جس نے لوگوں کو راضی کر کے اللہ کو ناراض کیا اللہ اسے لوگوں کے سپرد کر دے گا۔“

وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ ٰ کی خفگی و ناراضی سے بے پروا ہو کر لوگوں ہی کی رضا اور خوشنودی کو ترجیح دینے لگے تو پھر اللہ تعالیٰ ٰ بھی اس بندے سے بے پروا ہو جاتا ہے اور اس کے امور کو لوگوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہی نہیں کہ اس کے ان امور میں اس کی مدد نہیں کرتا اور دوسروں کے شر وفتنہ سے اس کو محفوظ نہیں رکھتا بلکہ لوگوں کو اس پر مسلط کر دیتا ہے جو اس کو ایذا پہنچاتے ہیں اور اس پر ظلم و ستم کرتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ بندوں کے حق میں اصل چیز رضائے الہی ہے اگر رب راضی ہے تو جنگ راضی ہے اور اگر رضائے الہی پر نظر نہ ہو لوگوں کی طرف دیکھے، تو پھر نہ رب راضی اور نہ جگ راضی۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 501
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن حبان : 277 ، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2414، والحميدي فى «مسنده» برقم: 268، الزهد ل أحمد : 910»