حدیث نمبر: 49
49 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، أبنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصِّيَامُ جُنَّةٌ» وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے۔“ اور یہ (مکمل) حدیث بیان کی۔

وضاحت:
تشریح -اس حدیث میں روزہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ روزہ ڈھال ہے۔ دنیا میں شیطان کے وار سے بچنے کے لیے اور آخرت میں عذاب جہنم سے بچنے کے لیے روزہ ایک ڈھال ہے جس طرح لڑائی میں ڈھال کے ذریعے دشمن کے وار سے بچا جاتا ہے اسی طرح شیطان مردودکے وار سے بچنے کے لیے روزہ ہے جب وہ بندے پر حملہ آور ہوتا ہے اور اسے مالک کی نافرمانی پر اکساتا ہے تو روزہ ڈھال بن کر اسے مالک کی نافرمانی سے بچالیتا ہے۔ پھر جب وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچا رہا تو آخرت میں عذاب جہنم سے بھی بچ جائے گا، ان شاء اللہ۔ یوں روزہ انسان کے لیے دنیا میں شیطانی وار اور آخرت میں عذاب نار سے بچنے کے لیے ڈھال ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 49
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1894، 1904، 5927، 7492، 7538، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1151، ومالك فى «الموطأ» برقم: 633 ، 634 ، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2215 ، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2363، والترمذي فى «جامعه» برقم: 764، 766، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1810، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1638، 1691، 3823، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 8206، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7295، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1040، 1044»