حدیث نمبر: 486
486 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ أنا الْقَاسِمُ بْنُ لَيْثِ بْنِ مَسْرُورٍ أَبُو صَالِحٍ الرَّاسِبِيُّ، نا مُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُولِيَ خَيْرًا فَلْيَجْزِ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى ذَلِكَ فَلْيُثْنِ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کی گئی تو اسے چاہیے کہ اس کا بدلہ دے اور جو اس (بدلہ دینے) پر قادر نہ ہو تو اسے چاہیے کہ اس (اپنے محسن) کی مدح و ثنا کرے اور جو ایسا نہ کرے تو بلاشبہ اس نے ناشکری کی۔“

وضاحت:
سلامی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بندہ اپنے محسن کو ہمیشہ یاد رکھے اور اس کے احسان کا بدلہ دینے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ اگر بدلے میں کچھ دینے کے لیے نہ نکلے تو کم از کم اپنے محسن کے لیے زبان سے اچھے کلمات ہی ادا کر دے۔ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کرے، اس کی پیٹھ پیچھے اس کی تعریف کرے، اور اگر مناسب سمجھے تو لوگوں کے سامنے اس کا احسان بھی بیان کر دے۔ اب جو شخص اتنا بھی نہ کر سکے تو اس نے کسی کے احسان کا کیا بدلہ دیتا ہے؟ ایسے شخص کو نا شکرا اور احسان فراموش نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 486
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه شعب الايمان : 8689»