حدیث نمبر: 45
45 - أنا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَاغِنْدِيُّ وَالْمَحَامِلِيُّ، قَالَا: نا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ الْعَطَّارُ، نا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو وَكِيعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُ خَطَبَ فَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «التَّحَدُّثُ بِنِعَمِ اللَّهِ شُكْرٌ، وَتَرْكَهَا كُفْرٌ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے خطبہ دیا تو بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ادا کرنا ہے اور نہ بیان کرنا ناشکری ہے۔“

وضاحت:
تشریح- یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر ہے کہ "اور اپنے رب کی نعمت کو خوب بیان کر۔ " (الضحى: 11) یعنی شکر ادا کرنے کے لیے اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو، اس کا چرچا کرو کیونکہ تحدیث نعمت ادائے شکر ہی ہے۔ اور ادائے شکر کا فائدہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "واقعی اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور ضرور تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر واقعی تم ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔ "(ابراهيم: 7)
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 45
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 4/ 278، الشكر لابن ابى الدنيا برقم: 63 ، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 8698»