حدیث نمبر: 412
412 - وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَوَسْتَ، إِجَازَةً، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشِّيرَازِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَشْمَرَدَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّلْتِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُوسَى الْعَابِدُ، ثنا شَرِيكٌ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَثُرَ صَلَاتُهُ بِاللَّيْلِ حَسُنَ وَجْهُهُ بِالنَّهَارِ» وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ مِنَ الْحُفَّاظِ، وَانْتَقَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ مِنْ حَدِيثِ الْقَاضِي أَبِي الطَّاهِرٍ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الذُّهْلِيِّ، وَمَا طَعَنَ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي إِسْنَادِهِ، وَلَا مَتْنِهِ. وَقَدُ أَنْكَرَهُ بَعْضُ الْحُفَّاظِ وَقَالَ: إِنَّهُ مِنْ كَلَامِ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَنَسَبَ الشَّبَهَ فِيهِ إِلَى ثَابِتِ بْنِ مُوسَى الضَّبِّيِّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْغَازِيُّ الْمُطَّوِّعِيُّ سَاكِنُ مَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ، إِجَازَةً قَالَ: أبنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَاكِمُ قَالَ: " دَخَلَ ثَابِتُ بْنُ مُوسَى الزَّاهِدُ عَلَى شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقَاضِي وَالْمُسْتَمْلِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَشَرِيكٌ يَقُولُ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَتْنَ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى ثَابِتٍ قَالَ: «مَنْ كَثُرَ صَلَاتُهُ بِاللَّيْلِ حَسُنَ وَجْهُهُ بِالنَّهَارِ» وَإِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِكَ ثَابِتَ بْنَ مُوسَى لِزُهْدِهِ، وَوَرَعِهِ، فَظَنَّ ثَابِتُ بْنُ مُوسَى أَنَّهُ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَكَانَ ثَابِتُ بْنُ مُوسَى يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، وَلَيْسَ لِهَذَا الْحَدِيثِ أَصْلٌ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَعَنْ قَوْمٍ مِنَ الْمَجْرُوحِينَ سَرَقُوهُ مِنْ ثَابِتِ بْنِ مُوسَى، وَرَوَوْهُ عَنْ شَرِيكٍ. وَقَدْ رُوِيَ لَنَا هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ طُرُقٍ كَثِيرَةٍ، وَعَنْ ثِقَاتٍ عَنْ غَيْرِ ثَابِتِ بْنِ مُوسَى، وَعَنْ غَيْرِ شَرِيكٍ وَذَلِكَ
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو کثرت سے نوافل پڑھے تو دن کے وقت اس کا چہرہ خوب روشن ہوتا ہے۔“ اس حدیث کو آئمہ حدیث کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے جبکہ امام ابوالحسن علی بن عمر الدارقطنی نے اس حدیث کو قاضی ابوطاہر محمد بن احمد الذہلی کی احادیث میں سے منتخب کر کے روایت کیا ہے اور کسی بھی محدث نے اس کی سند یا متن پر انگشت نمائی نہیں کی، حالانکہ بعض آئمہ نے اس حدیث کا انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ (الفاظ دراصل حدیث نہیں بلکہ) شریک بن عبداللہ کے اپنے الفاظ ہیں اور انہوں نے (ان الفاظ میں پائی جانے والی) مشابہت کو ثابت بن موسیٰ الضبی کی طرف منسوب کیا ہے۔ ہمیں ابوبکر محمد بن علی الغازی المطوعی ساکن مکہ نے ”بطریق اجازہ“ بیان کیا کہ محمد بن عبداللہ بن حاکم کا بیان ہے کہ قاضی شریک بن عبداللہ مجلس حدیث میں موجود تھے اور ان سے سن کر لوگوں کو املاء کرانے والا شخص ان کے سامنے تھا تو شریک نے ایک حدیث بیان کرنے کے لیے سند یوں پڑھی، (ابھی وہ یہیں تک پہنچے تھے) اور ابھی متن حدیث بیان نہیں کیا تھا کہ ثابت بن موسیٰ مجلس میں تشریف لے آئے تو شریک نے ان کو دیکھ کر ان کے زہد و ورع کے پیش نظر فرمایا: ”جو شخص رات کو کثرت سے نوافل ادا کرے تو دن کے وقت اس کا چہرہ خوب روشن ہوتا ہے۔“ تو اس عبارت سے ثابت بن موسیٰ نے سمجھا کہ قاضی شریک نے جو سند پڑھی تھی یہ الفاظ اس کا متن ہیں، پھر وہ اپنے اس فہم کے پیش نظر ان الفاظ کو قاضی شریک کی سند سے بطور حدیث بیان کیا کرتے تھے حالانکہ اس سند سے اس حدیث کی کچھ بھی اصل ثابت نہیں۔ اور اسی لیے بعض ضعیف راویوں نے اس حدیث کو ثابت بن موسیٰ سے سرقہ کرتے ہوئے قاضی شریک سے بطور حدیث روایت کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث بہت سی سندوں سے نیز ثابت بن موسیٰ اور قاضی شریک کے علاوہ بہت سے ثقہ راویوں سے بھی مروی ہے۔ ان میں سے بعض سندیں درج ذیل ہیں۔

حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 412
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا ، وأخرجه ابن ماجه : 1333، والكامل لابن عدى 2/ 304، وتاريخ مدينة السلام : 1/2 197» ثابت بن موسیٰ ضعیف اور شریک مدلس و مختلط ہے ۔