حدیث نمبر: 346
346 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ، يَقُولُ: قَالَ مُعَاوِيَةُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ» قَالَ: سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد ارشد کمال

محمد بن کعب کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کا تفقہ عطا فرماتا ہے۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہیں۔

وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث مبارک سے پتا چلا کہ دین کا تفقہ، اس کا فہم، اور اس کی سمجھ بوجھ خیر عظیم اور نعمت، عظمٰی ہے اور یہ صرف اسی خوش نصیب کے حصے میں آتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ ٰ خوش ہو اور جس کے ساتھ اس نے بھلائی کا ارادہ کیا ہو۔
اس حدیث میں اس شخص کے لیے بڑی خوشخبری ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی سمجھ بوجھ سے نوازا ہے۔ دین کی سمجھ بوجھ میں سرفہرست اللہ تعالیٰ ٰ کی معرفت اور توحید ہے۔ اللہ تعالیٰ ٰ کا فرمان ہے: ﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾ (محمد: 19) "پس جان لیجیے حقیقت یہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں ہے۔ " توحید کی سمجھ آگئی تو خیر اور بھلائی مل گئی اور اگر توحید ہی سمجھ میں نہ آسکی تو خواہ کتنے ہی علوم کیوں نہ جانتا ہو، خیر و بھلائی سے محروم ہے۔ یہ علوم دنیا کے لیے تو فائدہ مند ہو سکتے ہیں مگر آخرت کے لیے نہیں۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 346
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري : 71، ومسلم : 1037، وأحمد : 1/ 93»