أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَاهُ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ سُفْيَانُ: فَلَقِيتُ ابْنَهُ سُهَيْلًا فَقُلْتُ: سَمِعْتُ مِنْ أَبِيكَ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنَ الَّذِي حَدَّثَ أَبِي عَنْهُ، سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» ثَلَاثًا، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِنَبِيِّهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ» وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَكِّيِّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: قُلْتُ لِسُهَيْلٍ إِنَّ عَمْرًا حَدَّثَنَا عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِيكَ قَالَ: وَرَجَوْتُ أَنْ يُسْقِطَ عَنِّي رَجُلًا، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي سَمِعَهُ عَنْهُ أَبِي كَانَ صَدِيقًا لَهُ بِالشَّامِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُامام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے قعقاع بن حکیم عن ابی صالح عن عطاء بن یزید کی سند سے انہیں حدیث بیان کی۔ امام سفیان کہتے ہیں: پھر میں ان (ابی صالح) کے بیٹے سہیل سے ملا۔ میں نے کہا: کیا آپ نے اپنے والد سے وہ حدیث سنی ہے جو عمرو بن دینار نے قعقاع بن حکیم ابی صالح کی سند سے ہمیں بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے وہ حدیث اس سے سنی ہے جس نے میرے والد کو بیان کی تھی، میں نے عطاء بن یزید لیثی کو تمیم داری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے سنا تھا انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”دین خیر خواہی (کا نام) ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے نبی کے لیے، مسلمانوں کے آئمہ و حکام اور عام مسلمانوں کے لیے۔“ اس حدیث کو امام مسلم نے بھی محمد بن عباد مکی سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سہیل سے کہا: بے شک عمرو نے قعقاع سے اس نے آپ کے والد کے حوالے سے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے تو انہوں نے کہا: مجھے امید ہے کہ (میری سند میں) مجھ سے ایک آدمی (کا واسطہ) کم ہو جائے گا پھر انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث اس شخص سے سنی جس سے میرے والد نے سنی تھی، شام میں ان کا ایک دوست تھا (سارا واقعہ بیان کیا) پھر امام سفیان نے یہ حدیث سہیل عن عطاء بن یزید عن تمیم داری کی سند سے ہمیں بیان کی کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے۔
➋ سہیل عن عطاء بن یزید
پہلی سند نازل ہے۔ اصطلاح میں نازل سند ا سے کہتے ہیں جس میں راویوں کی تعداد دوسری سند کے مقابلے میں زیادہ ہو۔ دوسری سند عالی ہے۔ عالی سند وہ ہوتی ہے جس میں راویوں کی تعداد دوسری سند کے مقابلے میں کم ہو۔ حضرات محدثین اس کوشش میں رہتے تھے کہ سند میں کم سے کم راوی ہوں تا کہ سند عالی ہو جیسا کہ مذکورہ روایت میں امام سفیان بن عیینہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے سند عالی کرنے کی غرض سے ابوصالح سے ذکر کیا تھا۔