حدیث کتب › مسند الشهاب ›
مسند الشهاب
— احادیث 1 سے 200
الْمُسْلِمُونَ يَدٌ وَاحِدَةٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ باب: مسلمان اپنے دشمن کے خلاف ایک ہاتھ ہیں
حدیث نمبر: 170
170 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقُمِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ فَهْدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ. فَذَكَرَ ذَلِكَترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا تو آپ نے اس میں یہ بات بھی ارشاد فرمائی۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
وضاحت:
تشریح:
حدیث نمبر 135 میں مسلمانوں کو ایک عمارت سے تشبیہ دی گئی تھی اور دوسری روایتوں میں جسد واحد کہا گیا ہے۔ اور اب یہاں اس حدیث میں ایک ہاتھ کی مانند کہا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے دشمن کے خلاف متفق و متحد ہیں جس طرح ہاتھ کی پانچوں انگلیاں مل کر ایک مکا بنتی ہیں اسی طرح مسلمان بھی اپنے دشمن کے خلاف سب مل کر ایک ہو جائیں۔
حدیث نمبر 135 میں مسلمانوں کو ایک عمارت سے تشبیہ دی گئی تھی اور دوسری روایتوں میں جسد واحد کہا گیا ہے۔ اور اب یہاں اس حدیث میں ایک ہاتھ کی مانند کہا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے دشمن کے خلاف متفق و متحد ہیں جس طرح ہاتھ کی پانچوں انگلیاں مل کر ایک مکا بنتی ہیں اسی طرح مسلمان بھی اپنے دشمن کے خلاف سب مل کر ایک ہو جائیں۔