حدیث نمبر: 1168
1168 - أنا أَبُو ذَرٍّ عَبْدُ بْنُ أَحْمَدَ الْهَرَوِيُّ، نا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمُّويَةَ، وَأَبُو، إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي وَأَبُو الْهَيْثَمِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمَكِّيِّ الْكَشْمَيْهَنِيُّ قَالُوا: ثنا الْفَرَبْرِيُّ، أنا الْبُخَارِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال

یہ حدیث سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ بھی اسی طرح مروی ہے۔

وضاحت:
تشریح: -
معلوم ہوا کہ آخرت میں وہی شخص کامیاب ہوگا جس کا خاتمہ بالخیر ہوا ہوگا، اگر خاتمہ بالخیر نہ ہوا تو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اعمال سابق کا کوئی اعتبار نہیں اعتبار صرف ان اعمال کا ہوگا جن پر خاتمہ ہوا ہے۔ لہٰذا بندے کو چاہئے کہ ہر وقت یہی سوچ کر کہ شائد یہ آخری وقت ہو اپنے آپ کو اطاعت الہٰی میں مصروف رکھے اور معصیت سے بچتا رہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1168
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6607 ، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 112، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6175، والمعجم الكبير : 5798 ، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23276»