حدیث نمبر: 1161
1161 - وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِضُ، أبنا الْقَاضِي أَبُو الطَّاهِرِ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ ثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادٍ مِثْلِهِ، وَقَالَ فِيهِ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

یہ روایت اعمش سے ان کی سند کے ساتھ ایک دوسرے طریق سے بھی اسی طرح مروی ہے اور اس میں ہے: ”لوگو! میں (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) بھیجی ہوئی رحمت ہوں۔“

وضاحت:
فائدہ: -
اللہ تعالیٰ ٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ (الانبیاء: 107) {اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کی طرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔}
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ مشرکوں پر بددعا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک میں بڑا لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا میں تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔" [مسلم: 2599]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1161
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ابى شيبة : 32442 ، ابن الاعرابي : 2452 ، والطبراني فى «الصغير» برقم: 264، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 101»
اعمش مدلس کا عنعنہ ہے ۔