مسند الشهاب
— احادیث1001 سے 1200
إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ باب: بے شک تو اللہ سے ڈر کر جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائے گا
1138 - نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُسَدَّدٌ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنِ الَّذِي، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَمَّنْ سَمِعَهُ مِنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ: عَلِّمْنِي مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، فَنَزَلَ وَأُلْقِيَ لَهُ كُرْسِيُّ قَوَائِمُهُ حَدِيدٌ فَقَالَ: «إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللَّهِ إِلَّا بَدَّلَكَ اللَّهُ مَكَانَهُ خَيْرًا مِنْهُ» قَالَ رِفَاعَةُ الْعَدَوِيُّ: «انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ، قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خِلْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا، قَالَ فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَى عَلَى خُطْبَتِهِ فَأَتَى عَلَيْهَا»حمید بن ہلال اس شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا یا آپ سے سنا تھا۔ اس نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ نے جو آپ کو علم عطا فرمایا ہے اس میں سے مجھے بھی تعلیم فرما دیجیے۔ آپ (منبر سے) نیچے تشریف لائے اور آپ کے لیے کھجور کی چھال سے بنی ہوئی ایک کرسی رکھی گئی جس کے پائے لوہے کے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک تو اللہ سے ڈر کر جس چیز کو چھوڑے گا اللہ بدلے میں تجھے اس کی جگہ اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔“ رفاعہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک اجنبی آدمی ہوں، آپ سے دین کے سلسلے میں کچھ پوچھنے کے لیے حاضر ہوا ہوں، دین کے متعلق معلومات نہیں رکھتا، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر سے) نیچے تشریف لائے آپ نے اپنا خطبہ منقطع فرما دیا پھر کھجور کی چھال سے بنی ہوئی ایک کرسی لائی گئی جس کے پائے لوہے کے تھے آپ مجھے تعلیم فرمانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا تھا پھر آپ (دوبارہ) اپنے خطبہ کے لیے (منبر پر) تشریف لے گئے۔
ان احادیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جو بندہ محض اللہ تعالیٰ ٰ سے ڈر کر صرف اس کی رضا کے لیے کسی حرام چیز کو چھوڑ دے یا فساد سے بچنے کی خاطر اپنے کسی حق سے دستبرداری اختیار کر لے یا مشکوک اور مشتبہ چیزوں سے اپنا دامن بچالے تو اللہ تعالیٰ ٰ اسے عزت وسرفرازی سے نوازے گا اسے آخرت میں بھی صلہ دے گا اور دنیا میں بھی نعم البدل سے نوازے گا۔