مسند الشهاب
— احادیث1001 سے 1200
«إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً أَحَبَّ أَنْ تُرَى عَلَيْهِ» باب: بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر کوئی نعمت انعام کرتا ہے تو اسے اس پر دیکھنا پسند کرتا ہے
1102 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْغَازِي، بِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَةُ خَزٍّ لَمْ يُرَ عَلَيْهِ مِثْلُهَا، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ أَحَبَّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتَهُ عَلَيْهِ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ: قَدْ أَسْنَدَ شُعْبَةُ عَنْ هَذَا الشَّيْخِ حَدِيثَيْنِ، وَلَا نَعْلَمُ لَهُ رَاوِيًا غَيْرَ شُعْبَةَ، وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُفَضَّلِ قَرَابَةٌ، فَإِنَّ هَذَا بَصْرِيٌّ، وَالْمُفَضَّلُ حِجَازِيٌّ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِالرِّوَايَةِ عَنْ شُيُوخٍ لَمْ يَرْوِ عَنْهُمْ غَيْرُهُسیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ریشمی رومال اوڑھے باہر نکلے (اس سے پہلے) ان پر اس طرح کا (قیمتی) کپڑا نہیں دیکھا گیا تھا ان پر اعتراض ہوا تو انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ کسی بندے پر انعام کرتا ہے تو وہ یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس پر اپنی نعمت کا اثر دیکھے۔“ ابوعبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحافظ کہتے ہیں: اس شیخ (مفضل بن فضالہ) سے شعبہ نے دو حدیثیں لی ہیں اور ہمارے علم میں شعبہ کے سوا کسی نے ان سے روایت نہیں لی، ان کے اور شعبہ کے درمیان کوئی قریبی تعلق نہیں کیونکہ یہ (شعبہ) بصری ہیں اور مفضل حجازی ہیں اور یقین کریں کہ شعبہ کئی (شیوخ) سے روایت کرنے میں منفرد ہے، ان (شیوخ) سے شعبہ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔
لباس کسی کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے، نیز عموماً لباس سے انسان کی مالی، ذہنی اور سماجی حیثیت کا پتا بھی چلتا ہے۔ مزید برآں یہ کہ لباس سے کسی کے مہذب اور غیر مہذب ہونے کا پتا بھی چلتا ہے، اس لیے لباس صاف ستھرا، باپردہ اور مالی لحاظ سے حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ البتہ فخر و تکبر نہیں ہونا چاہیے «ولباس التقوى ذلك خير» ، صحیح لباس وہی ہے جس میں کنجوسی، فضول خرچی، عریانی، ریا کاری اور فخر سے پر ہیز کیا گیا ہو۔ لباس کے معاملے میں زیادہ تکلف بھی معیوب ہے جس سے انسان خود تنگی میں پڑ جائے۔ ریشم پہننا اور لباس ٹخنوں سے نیچے لٹکانا شرعاً حرام ہے، خواہ کسی بھی نیت سے ہو، البتہ شرعی عذر اور مجبوری قابل قبول ہے۔ [سنن نسائي: 7/ 235]