حدیث نمبر: 1089
1089 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، ثنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَاتَبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال

شعبی کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ آپ مجھے ایسی حدیث لکھ کر بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو چنانچہ انہوں نے ان کی طرف یہ لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”بے شک اللہ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند کی ہیں: قیل و قال، مال ضائع کرنا اور کثرت سوال۔“

وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں اللہ تعالیٰ ٰ کی تین ناپسندیدہ باتوں کا بیان ہے: ① قیل و قال: یعنی فضول اور بے فائدہ بحث جس کا نہ کوئی دنیاوی فائدہ ہو اور نہ اخروی۔ اللہ تعالیٰ ٰ نے اس سے منع کیا ہے کیونکہ لا یعنی ہاتوں اور فضول بحث سے پر ہیز کرنا مومن کی صفت ہے۔
② اضاعت مال: یعنی فضول خرچی، ایسی جگہوں پر مال خرچ کرنا جہاں دنیا وآخرت کے شرعی مقاصد میں سے کوئی مقصد حاصل نہ ہو اضاعت مال یعنی مال ضائع کرتا ہے اور یہ انسان کی بڑی حماقت اور بے وقوفی ہے کہ وہ اپنے مال کو ایسی جگہوں پر خرچ کرے جہاں خرچ کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہ ہو۔
③ کثرت سوال: اس سے مراد ایک تو یہ ہے کہ لوگوں سے ان کے اموال کا بکثرت سوال نہ کیا جائے یعنی بھیک مانگنا اور دوسرا یہ ہے کہ ایسے بے فائدہ اور عبث سوالات نہ کیے جائیں جن کا ہدایت کے ساتھ تعلق نہیں۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1089
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1477، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 593،وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5719، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1505، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1389، والحميدي فى «مسنده» برقم: 780، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18426»