حدیث نمبر: 1053
1053 - أنا الْحَسَنُ بْنُ فِرَاسٍ الْمَكِّيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَكِّيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا زَكَرِيَّا بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: «الَّذِينَ يُحْيُونَ سُنَّتِي وَيُعَلِّمُونَهَا عِبَادَ اللَّهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

کثیر بن عبد اللہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اسلام شروع ہوا تو یہ اجنبی تھا اور جلد ہی یہ دوبارہ اسی طرح اجنبی ہو جائے گا جس طرح کہ یہ شروع ہوا تھا پس اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے۔“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ اجنبی کون ہیں؟ فرمایا: ”جو میری سنت کو زندہ کریں گے اور اللہ کے بندوں کو اس کی تعلیم دیں گے۔“

حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1053
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا ، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2630، والبزار فى «مسنده» برقم: 3397، والطبراني فى«الكبير» برقم: 11»
کثر بن عبد الله مزنی سخت ضعیف ہے ۔