مسند الشهاب
— احادیث1001 سے 1200
إِنَّ لِكُلِّ سَاعٍ غَايَةً، وَغَايَةُ كُلِّ سَاعٍ الْمَوْتُ باب: ہرکوشاں رہنے والے کی ایک حد ہوتی ہے اور ہر کوشاں رہنے والے کی حد موت ہے
1025 - وَجَدْتُ بِخَطِّ شَيْخِنَا أَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ الْغَنِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الْحَافِظِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا رَبَاحٌ أَبُو الْمُهَاجِرِ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو يَحْيَى الرَّقَاشِيُّ، عَنْ أَبِي سُورَةَ ابْنِ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَخَذَ بِعُضَادَتَيْ بَابِ الْمَسْجِدِ، وَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا جَاءَ، جَاءَ بِالرَّوْحِ وَالرَّحْمَةِ وَالْكَرَّةِ الْمُبَارَكَةِ لِأَوْلِيَاءِ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ دَارِ السُّرُورِ الَّذِينَ كَانَ سَعْيُهُمْ وَرَغْبَتُهُمْ فِيهَا، يَا أَيُّهَا النَّاسُ، يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا جَاءَ، جَاءَ بِالْحَسْرَةِ وَالنُّدَامَةِ وَالْكَرَّةِ الْخَاسِرَةِ لِأَوْلِيَاءِ الشَّيْطَانِ مِنْ أَهْلِ دَارِ الْغُرُورِ الَّذِينَ كَانَ سَعْيُهُمْ وَرَغْبَتُهُمْ فِيهَا، أَلَا إِنَّ لِكُلِّ سَاعٍ غَايَةً، وَغَايَةُ كُلِّ سَاعٍ الْمَوْتُ»سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے دروازے کی دونوں چوکھٹوں کو پکڑا اور بلند آواز سے پکارا: ”اے لوگو! اے اہل اسلام! موت آئی جس کے ساتھ اس نے آنا تھا، وہ اللہ کے دوستوں کے لیے، جو دارالسرور والوں میں سے ہیں جن کی کوشش اور رغبت اس میں رہنے کی ہے، راحت و رحمت اور مبارک واپسی کے ساتھ آئی۔ اے لوگو! اے اہل اسلام! موت آئی جس چیز کے ساتھ اس نے آنا تھا وہ شیطان کے دوستوں کے لیے، جو دار الغرور والوں میں سے ہیں جن کی کوشش اور رغبت اس میں رہنے کی ہے، افسوس پچھتاوا اور گھانے والی واپسی کے ساتھ آئی۔ سنو! ہر کوشاں رہنے والے کی ایک حد ہوتی ہے اور ہر کوشاں رہنے والے کی حد موت ہے۔“