حدیث نمبر: 1699
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ سَعْدًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى يَأْتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَعَمْ" .
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد (بن عبادہ رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا اسے چار گواہ لانے تک مہلت دوں؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 1700
قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ سَعْدًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَعَمْ" .
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 1701
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا آخَرَ فَقَتَلَهُ أَوْ قَتَلَهَا، قَالَ: إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ.
حافظ محمد فہد
ابن مسیب سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ایک ایسے آدمی سے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو پایا اور اس کو قتل کر دیا یا اپنی عورت کو قتل کر دیا، تو فرمایا: ”اگر چار گواہ نہ لائے تو خود قتل پر تیار ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 1702
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ رَجُلًا بِالشَّامِ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ أَوْ قَتَلَهَا، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنْ يَسْأَلَ لَهُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا هُوَ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي، فَأَخْبَرَهُ. فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا أَبُو الْحَسَنِ: إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ أَدَبِ الْقَاضِي، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ شام میں ایک آدمی نے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پایا تو اسے قتل کر دیا یا اس عورت کو قتل کر دیا۔ تو (شام کے حاکم) معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ان کے لیے تم یہ مسئلہ علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو۔ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ واقعہ عراق کی سرزمین میں نہیں ہوا، میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ سچ بیان کرو۔“ پھر انہوں نے حقیقت بتادی، تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ابوالحسن ہوں، اگر وہ چار گواہ نہیں لاتا تو قتل پر راضی ہو جائے۔“