کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: دعووں اور شہادتوں (ثبوتوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1693
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي" . أَحْسِبُهُ قَالَ: وَلَا أُثْبِتُهُ أَنَّهُ قَالَ: "وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ" .
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گواہی پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہے۔“ (راوی کہتے ہیں) میرے خیال میں انہوں نے کہا اور میں اسے (یقین سے) یاد نہیں رکھ سکا کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ”(گواہ نہ ہونے کی صورت میں) قسم مدعی علیہ پر ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات / حدیث: 1693
تخریج حدیث اخرجه البخاري، التفسير ، باب ﴿ان الذين يشترون بعهد الله ....﴾ (4552) ومسلم، الأقضية، باب اليمين على المدعى عليه (1711)۔
حدیث نمبر: 1694
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَاعَيَا دَابَّةً، فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْبَيِنَّةَ أَنَّهَا دَابَّتُهُ نَتَجَهَا فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي هِيَ فِي يَدَيْهِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الدَّعْوَى وَالْبَيِّنَاتِ، وَهُوَ أَوَّلُ حَدِيثٍ فِيهِ.
حافظ محمد فہد
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ایک جانور پر دعویٰ کیا اور ہر ایک نے گواہی پیش کر دی کہ یہ اسی کا جانور ہے جسے اس نے پالا (اور نسل کشی کی) ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا فیصلہ اس کے حق میں دیا جس کے قبضے میں وہ جانور تھا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات / حدیث: 1694
تخریج حدیث اسناده ضعيـف جــدا فـان ابـن ابــى يحيى واسحاق بن أبي فروة متروكان اخرجه البيهقي : 10/ 256 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له (5984) - والدارقطني : 20/4 - والبغوى (2504)۔