حدیث نمبر: 1426
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ، وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ كَثِيرًا فِي طُولِ مُجَالَسَتِي لَهُ مَا لَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ مِنْ كَثْرَتِهِ لَا يُذْكَرُ فِيهِ: "أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ" ، لَا يَزِيدُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ ثُمَّ زَادَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ حُمَيْدٌ يَذْكُرُ بَعْدَ بَيْعِ السِّنِينَ كَلَامًا قَبْلَ وَضْعِ الْجَوَائِحِ لَا أَحْفَظُهُ وَكُنْتُ أَكُفُّ عَنْ ذِكْرِ وَضْعِ الْجَوَائِحِ؛ لِأَنِّي لَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ الْكَلَامُ، وَفِي الْحَدِيثِ أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ.
حافظ محمد فہد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کئی سال تک درخت کا پھل بیچنے سے منع فرمایا اور آسمانی آفت کی صورت میں (جو نقصانات میوہ خریدنے والوں کو ہوں) ان کو مجرا دینے کا حکم دیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے سفیان رحمہ اللہ کو بہت دفعہ یہ حدیث بیان کرتے سنا، وہ لمبا عرصہ جو میں ان کے ساتھ رہا انہوں نے یہ حدیث اتنی دفعہ بیان کی کہ میں شمار نہیں کر سکتا، جو میں نے اکثر انہیں بیان فرماتے سنا اس میں ”امر بوضع الجوائح“ نہیں ذکر کرتے تھے بلکہ نبی ﷺ کے ”نہی عن بیع السنین“ پر کچھ بھی زیادتی نہیں کرتے تھے، پھر بعد میں انہوں نے ”امر بوضع الجوائح“ بیان کیا۔“ تو سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حمید ”بیع السنین“ کے الفاظ کے بعد اور ”وضع الجوائح“ سے پہلے کوئی بات بیان کرتے تھے جسے میں یاد نہ رکھ سکا، جس وجہ سے میں ”وضع الجوائح“ کے الفاظ کا ذکر کرنے سے رک جاتا، کیونکہ میں نہیں جانتا وہ کیسی بات تھی، اور اس حدیث میں ہے کہ آسمانی آفت کی صورت میں خریدنے والوں کو نقصان کا معاوضہ دینے کا حکم دیا۔“
حدیث نمبر: 1427
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے جابر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے سابقہ حدیث کی مثل مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1428
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: ابْتَاعَ رَجُلٌ تَمْرَ حَائِطٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَالَجَهُ وَأَقَامَ عَلَيْهِ حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ النُّقْصَانُ، فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ يَضَعَ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَفْعَلَ، فَذَهَبَتْ أُمُّ الْمُشْتَرِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا؟" فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَبُّ الْمَالِ فَأَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ لَهُ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ.
حافظ محمد فہد
عمرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک آدمی نے باغ کی کھجوریں خریدیں، اس نے ان کی دیکھ بھال کی حتیٰ کہ اس کو نقصان ہو گیا تو اس نے باغ کے مالک سے کہا کہ وہ اسے رعایت دے، تو اس نے قسم اٹھا لی کہ وہ رعایت نہیں دے گا۔ پھر خریدار رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور آپ ﷺ سے یہ بات بیان کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اچھا کام نہ کرنے کی قسم اٹھائی؟“ جب باغ کے مالک نے یہ بات سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ اس کے لیے ہے۔“ (یعنی میں نے رعایت دے دی)۔