أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کے پختہ ہونے سے پہلے انہیں بیچنے سے منع فرمایا۔
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا، آپ ﷺ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا۔
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي بِنَحْوِهِ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا تُزْهِي؟ قَالَ: "حَتَّى تَحْمَرَّ" . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَرَأَيْتُمْ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ" ؟ .
حافظ محمد فہد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کو ”زہو“ سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، تو پوچھا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ زہو کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہاں تک کہ وہ سرخ ہو جائیں۔“ اور پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، جب اللہ کے حکم سے پھلوں پر آسمانی آفت آ جائے تو تم اپنے بھائی کا مال کس چیز کے عوض لو گے؟“
أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرَةِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ قِيلَ: وَمَا تَزْهُو؟ قَالَ: تَحْمَرُّ.
حافظ محمد فہد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کھجور کے درخت پر لگی کھجوروں کی بیع زہو سے پہلے منع فرمائی۔ ان سے پوچھا گیا، یہ زہو کیا ہے؟ تو فرمایا: ”سرخ ہونا ہے۔“
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ.
حافظ محمد فہد
عمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میووں کے بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ آفت سے بچ جائیں۔
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَذْهَبَ الْعَاهَةُ. قَالَ عُثْمَانُ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ: مَتَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ: طُلُوعَ الثُّرَيَّا.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے میووں کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ آفت کا ڈر جاتا رہے۔ عثمان نے کہا میں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، یہ کون سا وقت ہے؟ تو انہوں نے فرمایا، پختگی کا ظاہر ہونا۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَقُلْتُ: أَخَصَّ جَابِرٌ النَّخْلَ أَوِ التَّمْرَ؟ قَالَ: بَلِ النَّخْلَ. وَلَا نَرَى [ ص: 191 ] كُلَّ ثَمَرَةٍ إِلَّا مِثْلَهُ.
حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میووں کو پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ ابن جریج کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ کیا جابر رضی اللہ عنہ نے کھجور کے درخت کو خاص کیا یا کھجوروں کو، تو انہوں نے کہا، بلکہ کھجور کے درخت کو، اور ہم ہر پھل کے لیے یہی اصول سمجھتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ: أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: لَا يُبْتَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَسَمِعْنَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ يَقُولُ: لَا يُبَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ.
حافظ محمد فہد
طاؤوس سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ میووں کو پختہ ہونے سے پہلے نہ بیچا جائے۔ اور ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ میووں کو نہ بیچا جائے یہاں تک کہ وہ کھائے جائیں (یعنی کھانے کے قابل ہو جائیں)۔
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، أَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَبِيعُ التَّمْرَ مِنْ غُلَامِهِ قَبْلَ أَنْ يَطْعَمَ، وَكَانَ لَا يَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ غُلَامِهِ رِبًا. أَخْرَجَ الْعَشَرَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ.
حافظ محمد فہد
ابو معبد سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کھجوروں کو اپنے غلام سے خریدتے تھے ان کے کھائے جانے سے پہلے اور وہ اپنے اور اپنے غلام کے درمیان سود نہیں سمجھتے تھے۔