کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: لونڈی کو آزاد ہونے پر (اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1262
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَتْ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ وَكَانَتْ فِي إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا.
حافظ محمد فہد
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تین سنتیں قائم ہوئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ انہیں آزاد کیا گیا تو پھر انہیں اپنے خاوند کے متعلق اختیار بھی دیا گیا (یعنی اگر چاہیں تو نکاح برقرار رکھیں یا فسخ کر دیں)۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1262
تخریج حدیث اخرجه البخاري ، الطلاق، باب لا يكون بيع الأمة طلاقاً (5279) ومسلم، العتق، باب بيان ان الولاء لمن أعتق (1504)۔
حدیث نمبر: 1263
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ: إِنَّ لَهَا الْخِيَارَ مَا لَمْ يَمَسَّهَا، فَإِنْ مَسَّهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما اس لونڈی کے متعلق کہتے جو غلام کے نکاح میں ہو اور اس کا آقا اسے آزاد کر دے تو اگر اس کے خاوند نے اس سے ہم بستری نہیں کی تو اسے اختیار ہے، اگر اس نے ہم بستری کر لی تو اس کو کچھ اختیار نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1263
تخریج حدیث اسناده صحیح اخرجه البیهقی: 222/7 ، 225 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له (4269)۔ ومالك في الموطأ، الطلاق، باب ما جاء في الخيار۔
حدیث نمبر: 1264
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ مَوْلَاةً لِبَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، يُقَالُ لَهَا: زَبْرَاءُ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، وَهِيَ أَمَةٌ يَوْمَئِذٍ فَعَتَقَتْ، قَالَتْ: [ ص: 107 ] فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْنِي، فَقَالَتْ: إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا، وَلَا أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا، إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكِ مَا لَمْ يَمَسَّكِ زَوْجُكِ، قَالَتْ: فَفَارَقَتْهُ ثَلَاثًا.
حافظ محمد فہد
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بنی عدی بن کعب کی آزاد کردہ لونڈی جس کا نام زبراء تھا اس نے انہیں بتایا کہ وہ ایک غلام کے نکاح میں تھی، اور وہ اس وقت لونڈی تھی کہ اس کے آقا نے اسے آزاد کر دیا، وہ کہتی ہیں کہ نبی ﷺ کی بیوی حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کی طرف پیغام بھیج کر انہیں بلایا اور فرمایا: ”میں تجھے ایک بات بتانے لگی ہوں، اور میں پسند نہیں کرتی کہ تو کچھ کرے۔ وہ یہ کہ تیرا معاملہ اب اس وقت تک تیرے ہاتھ میں ہے جب تک کہ تیرا خاوند تیرے ساتھ ہم بستری نہ کرے“، تو اس نے اس کو خاوند سے تین مرتبہ علیحدگی اختیار کر لی۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1264
تخریج حدیث اسناده ضعیف لجهاله زبراء اخرجه البيهقي: 7/225 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4270)- ومالك في الموطأ الطلاق، باب ما جاء في الخيار۔
حدیث نمبر: 1265
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ: أَنَّ مَوْلَاةً لِبَنِي عَدِيٍّ، يُقَالُ لَهَا: زَبْرَاءُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ أَمَةٌ فَعَتَقَتْ. قَالَتْ: فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ فَدَعَتْنِي فَقَالَتْ: إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا، وَلَا أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكِ مَا لَمْ يَمَسَّكِ زَوْجُكِ، قَالَتْ: فَفَارَقَتْهُ ثَلَاثًا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَمْ تَقُلْ لَهَا حَفْصَةُ: لَا يَجُوزُ أَنْ تُطَلَّقِي ثَلَاثًا.
حافظ محمد فہد
عروہ سے روایت ہے کہ بنی عدی کی آزاد کردہ لونڈی جس کا نام زبراء تھا اس نے اسے بتایا کہ وہ جب لونڈی تھی تو اس وقت ایک غلام کے نکاح میں تھی، اس کو اس کے آقا نے آزاد کر دیا، فرماتی ہے، حفصہ رضی اللہ عنہا نے میری طرف پیغام بھیج کر مجھے بلایا اور فرمایا: ”میں تجھے ایک بات بتانے لگی ہوں اور میں نہیں چاہتی کہ تو کچھ کرے، وہ یہ کہ اب تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے جب تک کہ تیرا خاوند تجھ سے ہم بستری نہ کرے“، وہ کہتی ہیں کہ اس نے اس کو تین دفعہ علیحدہ کر دیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اسے یہ نہیں کہا کہ تیرے لیے اسے تین طلاقیں دینا جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1265
تخریج حدیث انظر الحديث الذي قبله برقم : (1264)۔
حدیث نمبر: 1266
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ ذَكَرَ عِنْدَهُ زَوْجَ بَرِيرَةَ، فَقَالَ: كَانَ ذَلِكَ مُغِيثٌ عَبْدُ بَنِي فُلَانٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتْبَعُهَا فِي الطَّرِيقِ وَهُوَ يَبْكِي.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ان کے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا کے خاوند کا ذکر کیا گیا تو فرمایا: ”یہ بنی فلاں کا غلام مغیث تھا، گویا اب بھی میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ روتے ہوئے راستے میں اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہے“۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1266
تخریج حدیث اخرجه البخاري، الطلاق، باب خيار الأمة تحت العبد (5281)۔
حدیث نمبر: 1267
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا. [ ص: 108 ] أَخْرَجَ السِّتَّةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا خاوند غلام تھا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1267
تخریج حدیث اسناده ضعيف جدا: لأن القاسم بن عبد الله بن عمر متروك - اخرجه البيهقي : 7 / 222 - وفي المعرفة السنن والآثار له (4266) - والدارقطني: (3/ 293)۔