کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: غلام کی طلاق کا بیان اور یہ کہ اس پر دو طلاقوں سے حرمت ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 1257
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ أَنْ يَنْكِحَ فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ لَيْسَ بِيَدِ غَيْرِهِ مِنْ طَلَاقِهِ شَيْءٌ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ جس نے اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دے دی تو طلاق کا اختیار غلام ہی کے پاس ہے، غلام کے علاوہ اور کسی کو طلاق کا اختیار نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1257
تخریج حدیث اسناده صحیح اخرجه البيهقي : 7/360 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4480)۔ وعبدالرزاق (12968)۔ وابن أبي شيبة (18383) - ومالك فى الموطأ الطلاق، باب ما جاء في طلاق العبد۔
حدیث نمبر: 1258
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ: أَنَّ نُفَيْعًا مُكَاتِبًا لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَفْتَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَةً لِي حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: حَرُمَتْ عَلَيْكَ.
حافظ محمد فہد
محمد بن ابراہیم بن حارث التیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نفیع، جنہوں نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مکاتبت کی تھی، انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا کہ میں نے اپنی آزاد بیوی کو دو طلاقیں دے دی ہیں، تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ تجھ پر حرام ہو چکی ہے“۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1258
تخریج حدیث اسناده ضعيف لإنقطاعه فان محمد بن ابراهيم التيمى لم يسمع من زيد بن ثابت اخرجه البيهقي : 7/ 369۔ وفي المعرفة السنن والآثار له (4482) - ومالك فى الموطأ ،الطلاق، باب ما جاء في طلاق العبد۔
حدیث نمبر: 1259
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ نُفَيْعًا مُكَاتِبًا لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ عَبْدٌ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ فَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ، [ ص: 104 ] ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا. فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَذَهَبَ إِلَيْهِ فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذًا بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُمَا فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعًا فَقَالَا: حَرُمَتْ عَلَيْكَ حَرُمَتْ عَلَيْكَ.
حافظ محمد فہد
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نفیع، جنہوں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مکاتبت کی تھی، ان کے نکاح میں ایک آزاد عورت تھی، انہوں نے اس کو دو طلاقیں دے دیں، پھر اس سے رجوع کرنا چاہا تو انہیں نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات نے کہا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھ لو۔ وہ ان کے پاس گیا تو وہ اسے درج کے مقام پر ملے اور انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ اس نے ان دونوں سے سوال کیا، تو ان دونوں نے فوراً جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”وہ تجھ پر حرام ہو چکی، وہ تجھ پر حرام ہو چکی“۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1259
تخریج حدیث صحيح اخرجه البيهقي: 7 360 ، 368 - وابن أبي شيبة (18242) - ومالك في الموطأ، الطلاق، باب ما جاء في طلاق العبد۔
حدیث نمبر: 1260
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ نُفَيْعًا مُكَاتِبًا لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ، فَاسْتَفْتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَرُمَتْ عَلَيْكَ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الرَّجْعَةِ، وَهِيَ آخِرُ مَا فِيهِ.
حافظ محمد فہد
ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نفیع، جنہوں نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مکاتبت کی تھی، انہوں نے اپنی آزاد بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ وہ تجھ پر حرام ہوگئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1260
تخریج حدیث صحيح: اخرجه البيهقي: 368/7 - 369 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له (4483) ـ ومالك في الموطأ، الطلاق، باب ما جاء في طلاق العبد۔