کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: رخصتی کے بعد تین طلاقیں دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1253
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ [ ص: 101 ] الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي، وَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ تَزَوَّجَنِي وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ" .
حافظ محمد فہد
نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رفاعہ (القرظی) کی بیوی نے نبی ﷺ سے آ کر کہا کہ رفاعہ رضی اللہ عنہ نے مجھے طلاق دے دی تھی اور طلاق بھی بتہ (بائن) اور پھر عبدالرحمن بن زبیر نے مجھ سے نکاح کر لیا، لیکن اس کے پاس تو کپڑے کے پلو جیسا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو؟ لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ تو اس (اپنے موجودہ شوہر) کا ذائقہ نہ چکھ لے اور وہ تیرا ذائقہ نہ چکھ لے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1253
تخریج حدیث اخرجه البخاري، الطلاق، باب من جوز الطلاق الثلاث، لقول الله تعالى ﴿الطلاق مرتان ...﴾ (5260) ، (2639) ومسلم، النكاح، باب لا تحل المطلقة ثلاثا .... الخ (1433)۔
حدیث نمبر: 1254
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ [ ص: 102 ] بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَمِيمَةَ بِنْتَ وَهْبٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، فَنَكَحَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ، فَاعْتَرَضَ عَنْهَا فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا، وَفَارَقَهَا فَأَرَادَ رِفَاعَةُ أَنْ يَنْكِحَهَا وَهُوَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَقَالَ: "لَا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ" .
حافظ محمد فہد
زبیر بن عبدالرحمن بن زبیر سے روایت ہے کہ رفاعہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اپنی بیوی تمیمہ بنت وہب کو تین طلاقیں دے دیں، پھر اس سے عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ نے نکاح کر لیا، انہوں نے اس سے ہم بستری سے پہلے ہی اسے علیحدہ کر دیا، تو رفاعہ رضی اللہ عنہ نے جو ان کے پہلے خاوند تھے جنہوں نے اسے طلاق دی تھی اس سے پھر نکاح کرنا چاہا تو یہ بات نبی ﷺ سے بیان کی تو آپ ﷺ نے ان کو اس سے شادی سے منع کر دیا اور فرمایا: ”یہ آپ کے لیے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کہ اپنے موجودہ خاوند کا ذائقہ نہ چکھ لے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1254
تخریج حدیث اسناده ضعيف لإرساله اخرجه البيهقي: 375/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4511)۔
حدیث نمبر: 1255
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ وَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: "أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ" ، قَالَ: وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَى: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَسْمَعُ مَا تَجْهَرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ! .
حافظ محمد فہد
نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رفاعہ رضی اللہ عنہ قرظی کی بیوی نے نبی ﷺ سے آکر کہا، میں رفاعہ کی بیوی تھی اور اس نے مجھے طلاق بائن دے دی، پھر میں نے عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے شادی کی، اور اس کے پاس تو کپڑے کے پلو کی طرح ہے (یعنی وہ نامرد ہے) رسول اللہ ﷺ یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا: ”کیا تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو؟ یہ اس وقت تک نہ ہوگا جب تک کہ تو اپنے موجودہ خاوند کا اور وہ تیرا ذائقہ نہ چکھ لے۔“ عروہ نے کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور نبی ﷺ کے پاس تشریف فرما تھے جبکہ خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے اجازت کے منتظر تھے کہ انہوں نے آواز دی، اے ابوبکر! آپ سنتے نہیں کہ یہ عورت نبی ﷺ کے پاس کیا باتیں کر رہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1255
تخریج حدیث انظر الحديث السابق برقم : (1353)۔
حدیث نمبر: 1256
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ، يَعْنِي: الْقُرَظِيَّ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ، فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: "تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ" . وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَى: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَسْمَعُ مَا تَجْهَرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الرَّجْعَةِ وَالرَّابِعَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رفاعہ القرظی کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اس نے کہا: ”میں رفاعہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھی کہ اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں، پھر میں نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا، اور اس کے پاس تو کپڑے کے پلو کی طرح ہے (یعنی وہ نامرد ہے)“۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”کیا تو دوبارہ رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے؟ یہ نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ وہ تیرا ذائقہ اور تو اس کا ذائقہ نہ چکھ لے“۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس تشریف فرما تھے جبکہ خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے اجازت کے منتظر تھے، انہوں نے آواز دی: ”اے ابوبکر! کیا آپ سنتے نہیں کہ یہ عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس کیسی باتیں کر رہی ہے؟“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الطلاق / حدیث: 1256
تخریج حدیث انظر الحديث السابق برقم : (1353)۔