کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: مشرک کے اسلام لانے پر نکاح کے برقرار رہنے اور (چار سے) زائد بیویوں کو چھوڑنے کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ أَحْسَبُهُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَمْسِكْ أَرْبَعًا، وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ" .
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے، تو ان کے پاس دس بیویاں تھیں۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”ان میں سے چار کو (نکاح میں) باقی رہنے دو اور باقی سب کو چھوڑ دو“۔
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدِيثَ غَيْلَانَ.
حافظ محمد فہد
امام مالک رحمہ اللہ سے بھی زہری کے واسطہ سے حدیثِ غیلان مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي خَمْسُ نِسْوَةٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "فَارِقْ وَاحِدَةً، وَأَمْسِكْ أَرْبَعًا" فَعَمَدْتُ إِلَى أَقْدَمِهِنَّ عِنْدِي عَاقِرٌ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً فَفَارَقْتُهَا.
حافظ محمد فہد
نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسلمان ہوا جبکہ میری پانچ بیویاں تھیں۔ میں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک کو طلاق دے کر باقی چار کو (نکاح میں) روکے رکھو“۔ تو میں نے ان میں سے سب سے پہلی (بیوی) جو ساٹھ سال سے بانجھ تھی، اسے طلاق دے دی۔
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِي خِرَاشٍ، عَنِ الدَّيْلَمِيِّ أَوِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أُمْسِكَ أَيَّتَهُمَا شِئْتُ وَأُفَارِقَ الْأُخْرَى.
حافظ محمد فہد
دیلمی یا ابن دیلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: ”میں مسلمان ہوا اور میرے نکاح میں دو سگی بہنیں تھیں۔ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ ان میں سے جس کو چاہو ایک کو چن لو اور دوسری کو فارغ کر دو“۔
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ: "أَمْسِكْ أَرْبَعًا وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ" .
حافظ محمد فہد
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ثقیف قبیلہ کے اسلام لانے والے آدمی کو، جس کی دس بیویاں تھیں، فرمایا: ”چار کو روک کر باقی سب کو چھوڑ دو (طلاق دے دو)“۔
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ هَرَبَ مِنَ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَ حُنَيْنًا وَالطَّائِفَ مُشْرِكًا، وَامْرَأَتُهُ مُسْلِمَةٌ وَاسْتَقَرَّا عَلَى النِّكَاحِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: كَانَ بَيْنَ إِسْلَامِ صَفْوَانَ وَامْرَأَتِهِ نَحْوٌ مِنْ شَهْرٍ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ التَّعْرِيضِ بِالْخِطْبَةِ وَالسَّادِسَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
ابن شہاب سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ اسلام (فتح مکہ) کے وقت بھاگ گئے تھے، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور غزوہ حنین اور طائف میں حالتِ شرک میں شرکت کی، جبکہ ان کی بیوی مسلمان ہو چکی تھی اور نبی ﷺ نے ان دونوں کو اسی (پہلے) نکاح پر برقرار رکھا۔ ابن شہاب نے فرمایا: صفوان اور ان کی بیوی کے اسلام لانے میں تقریباً ایک مہینے کا فرق ہے۔