حدیث نمبر: 1188
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَتَحْرُمُ بِهِنَّ.
حافظ محمد فہد
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ پانچ بار سالم کو دودھ پلائیں تاکہ وہ اس کی محرم ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 1189
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ يَحْرُمُ بِلَبَنِهَا فَفَعَلَتْ فَكَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا.
حافظ محمد فہد
عروہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی (سہلہ) کو حکم دیا کہ وہ سالم کو پانچ بار دودھ پلائے، اور وہ اس کے دودھ سے محرم ہو جائے گا، انہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ سالم کو اپنا بیٹا سمجھتی تھیں۔
حدیث نمبر: 1190
أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا، وَكَانَ قَدْ تَبَنَّى سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، فَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ ابْنُهُ، فَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأُوَلِ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَى قُرَيْشٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ [الْأَحْزَابِ: 5] [ ص: 69 ] رَدَّ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ أُولَئِكَ مَنْ تَبَنَّى إِلَى أَبِيهِ، فَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ أَبَاهُ رَدَّ إِلَى الْمَوَالِي، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا فُضُلٌ وَلَيْسَ لَنَا إِلَّا بَيْتٌ وَاحِدٌ فَمَاذَا تَرَى فِي شَأْنِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا: أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَحْرُمُ بِلَبَنِهَا، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، وَكَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنَ الرَّضَاعَةِ فَأَخَذَتْ بِذَلِكَعَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِيمَنْ كَانَتْ تَخْتَارُ يَدْخُلُ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ، وَكَانَتْ تَأْمُرُ أُخْتَهَا أُمَّ كُلْثُومٍ وَبَنَاتِ أُخْتِهَا يُرْضِعْنَ لَهَا مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَأَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَقُلْنَ: مَا نَرَى الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلَّا كَانَ رُخْصَةً فِي سَالِمٍ وَحْدَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ عَلَيْنَا بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ. فَعَلَى هَذَا مِنَ الْخَبَرِ كَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّضَاعَةِ لِلْكَبِيرِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الرَّضَاعِ.
حافظ محمد فہد
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے صحابہ کرام میں سے تھے، اور انہوں نے بدر میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا، جنہیں ”سالم مولیٰ ابوحذیفہ“ کہا جاتا ہے۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو لے پالک بیٹا بنایا تھا۔ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ چونکہ سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، لہٰذا انہوں نے ان کا نکاح اپنی بھتیجی فاطمہ بنت ولید بن عتبہ سے کر دیا، وہ پہلے ہجرت کرنے والوں میں سے تھے اور وہ (فاطمہ) اس وقت قریش کی افضل ترین غیر شادی شدہ عورتوں میں سے تھیں۔ پھر جب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا: ”انہیں ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف والی بات ہے۔ اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں“ (الاحزاب: 5) تو ہر ایک نے اپنے لے پالک بیٹے کو اس کے حقیقی باپ کی طرف لوٹا دیا۔ جس کے باپ کا علم نہ ہو سکا اسے آزاد کرنے والوں کی طرف لوٹا دیا گیا۔ اس کے بعد ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا (جو بنی عامر بن لوی قبیلہ سے تھیں) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے اور وہ میرے پاس آتا جاتا ہے جبکہ میں گھر کے سادہ لباس میں ہوتی ہوں اور ہمارا گھر بھی ایک ہی ہے۔ آپ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو بات ہم تک پہنچی ہے اس کے متعلق فیصلہ یہ ہے کہ تو اسے پانچ بار دودھ پلا دے، وہ تیرے اس دودھ سے محرم ہو جائے گا“۔ انہوں نے ایسے ہی کیا اور وہ سالم کو اپنا رضاعی بیٹا سمجھتی تھیں۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے یہ استدلال کیا کہ وہ جس مرد کے متعلق پسند کرتیں کہ وہ ان کے پاس آسکے، تو وہ اپنی بہن ام کلثوم اور بھانجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ اسے دودھ پلا دیں (بڑی عمر میں) اور پھر وہ ان کے پاس آتے جاتے۔ نبی ﷺ کی باقی تمام ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا کہ لوگ اس طرح رضاعت کے ذریعے ان کے پاس آئیں اور انہوں نے کہا: ”ہمارے خیال میں رسول اللہ ﷺ نے سہلہ بنت سہیل کو جو حکم دیا وہ صرف سالم رضی اللہ عنہ کے لیے خاص رخصت تھی۔ ہمارے پاس اس رضاعت کے ذریعے کوئی نہیں آسکتا“۔ یہ وہ بات ہے جس میں بڑے آدمی کی رضاعت کے بارے میں نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے درمیان اختلاف ہے۔