کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: مدبر غلام (جس کی آزادی مالک کی موت پر مشروط ہو) کی فروخت کا بیان
حدیث نمبر: 1091
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ: أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنَّ أَبَا مَذْكُورٍ رَجُلًا مِنْ عُذْرَةَ كَانَ لَهُ غُلَامٌ قِبْطِيٌّ فَأَعْتَقَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ بِذَلِكَ الْعَبْدِ، فَبَاعَ الْعَبْدَ، وَقَالَ: "إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ فَلْيَبْدَأْ مَعَ نَفْسِهِ بِمَنْ يَعُولُ، ثُمَّ إِنْ وَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ فَضْلًا فَلْيَتَصَدَّقْ عَلَى غَيْرِهِمْ" . وَزَادَ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ فِي الْحَدِيثِ شَيْئًا.
حافظ محمد فہد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ ابو مذکور ایک آدمی تھا جو عذرہ قبیلہ سے تھا۔ اس کا ایک قبطی غلام تھا جسے اس نے مدبر کیا۔ نبی ﷺ نے اس غلام کے متعلق سنا تو آپ ﷺ نے اس غلام کو بیچ دیا اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی فقیر ہو تو پہلے اپنے آپ سے ابتدا کرے، اگر مال زائد ہو تو اپنے ساتھ اپنے زیرِ کفالت لوگوں سے شروع کرے، پھر اس کے بعد اگر مال زائد پائے تو دوسروں پر صدقہ کر دے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1091
تخریج حدیث اخرجه البيهقي: 10/ 309 - وفى المعرفة السنن والآثار له (6071) وعبد الرزاق (16662) واحمد: 3/ 294 - وصححه ابن الجارود (894)۔
حدیث نمبر: 1092
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَأَعْطَاهُ الثَّمَنَ.
حافظ محمد فہد
عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے بعد غلام کی آزادی کے لیے کہا جبکہ اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون اس کو مجھ سے خریدے گا؟“ نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو آٹھ سو درہم کے بدلے خرید لیا، اور اس کی قیمت دے دی۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1092
تخریج حدیث اخرجه البخاری، کفارات الأيمان، باب عتق المدبر وام الولد والمكاتب في الكفارة .... الخ (6716)، (6947) ـ ومسلم، الایمان، باب جواز بیع المدبر (997 - بعد 1503)۔
حدیث نمبر: 1093
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے نبی ﷺ سے سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1093
تخریج حدیث انظر الحديث السابق برقم (1092)۔
حدیث نمبر: 1094
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنِ اللَّيْثِ، وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا عَنْ دُبُرٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ؟" فَقَالَ: لَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا، فَإِنْ فَضَلَ عَنْ نَفْسِكَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِذَوِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذَوِي قَرَابَتِكَ فَهَكَذَا وَهَكَذَا، يُرِيدُ عَنْ يَمِينِكَ وَشِمَالِكَ" .
حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا: بنی عذرہ قبیلہ سے ایک آدمی نے اپنے غلام کو مدبّر بنا لیا، جب نبی ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے دریافت کیا: ”کیا تیرے پاس اس کے علاوہ بھی مال ہے؟“ تو اس نے کہا: ”نہیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟“ نعیم بن عبداللہ العدوی رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں آپ ﷺ سے اسے خرید لیا، وہ اس رقم کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے یہ قیمت مالک کے حوالے کر دی، پھر فرمایا: ”اپنے آپ سے ابتدا کر اور اس پر خرچ کر، اگر تیرے نفس سے کچھ بچ گیا تو اپنے گھر والوں پر، اگر پھر بھی کچھ بچ گیا تو اپنے رشتہ داروں کے لیے، اگر ان سے بھی بچ جائے تو ادھر ادھر، دائیں بائیں (یعنی دیگر مستحقین) پر خرچ کر۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1094
تخریج حدیث اخرجه مسلم ، الزكاة ، باب الابتداء في النفقة بالنفس ثم اهله ثم القرابة (997)۔
حدیث نمبر: 1095
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: دَبَّرَ رَجُلٌ مِنَّا غُلَامًا لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ. قَالَ عَمْرٌو: فَسَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ [ ص: 21 ] عَامَ أَوَّلَ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَزَادَ أَبُو الزُّبَيْرِ يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ.
حافظ محمد فہد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: ہم میں سے ایک آدمی نے غلام کو مدبّر بنا لیا اور اس کے پاس اس غلام کے علاوہ اور مال نہ تھا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟“ اس کو نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ نے خرید لیا۔ عمرو نے کہا: میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ ایک قبطی غلام تھا اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے پہلے سال فوت ہوا۔ ابوزبیر نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے کہ اس کا نام یعقوب تھا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1095
تخریج حدیث أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع المدبر (2141) ، (2231) - ومسلم، الزكاة، باب الابتداء في النفقة بالنفس ثم اهله ثم القرابة (997)۔
حدیث نمبر: 1096
قَالَ الشَّافِعِيُّ: هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْهُ عَامَّةَ دَهْرِي، ثُمَّ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي دَبَّرَ رَجُلٌ مِنَّا غُلَامًا لَهُ فَمَاتَ فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ خَطَأً مِنْ كِتَابِي أَوْ خَطَأً مِنْ سُفْيَانَ، فَإِنْ كَانَ مِنْ سُفْيَانَ فَابْنُ جُرَيْجٍ أَحْفَظُ لِحَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ مِنْ سُفْيَانَ وَمَعَ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدِيثُ اللَّيْثِ وَغَيْرُهُ. وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَحُدُّ الْحَدِيثَ تَحْدِيدًا يُخْبِرُ فِيهِ حَيَاةَ الَّذِي دَبَّرَهُ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَغَيْرُهُ أَحْفَظُ لِحَدِيثِ عَمْرٍو مِنْ سُفْيَانَ وَحْدَهُ. [ ص: 22 ] وَقَدْ يُسْتَدَلُّ عَلَى حِفْظِ الْحَدِيثِ مِنْ خَطَئِهِ بِأَقَلَّ مِمَّا وَجَدْتُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَاللَّيْثِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَفِي حَدِيثِ حَمَّادٍ، عَنْ عَمْرٍو وَغَيْرِ حَمَّادٍ، يَرْوِيهِ عَنْ عَمْرٍو كَمَا رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ. وَقَدْ أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِيَ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ قَدِيمًا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُدَاخِلُ فِي حَدِيثِهِ: "مَاتَ" ، وَعَجِبَ بَعْضُهُمْ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي وَجَدْتُ فِي كِتَابِي: "مَاتَ" . قَالَ: وَلَعَلَّ هَذَا خَطَأٌ أَوْ زَلَلًا مِنْهُ حَفِظْتُهَا عَنْهُ.
حافظ محمد فہد
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے ان سے اپنے دور میں عموماً اسی طرح سنا، پھر میں نے اپنی کتاب میں پایا کہ ”ہم میں سے ایک آدمی نے غلام مدبر کیا اور وہ مر گیا“، یہ (عبارت) یا تو میری کتاب کی غلطی ہے یا سفیان رحمہ اللہ سے غلطی ہوئی ہے۔ اگر یہ غلطی سفیان رحمہ اللہ کی طرف سے ہے تو پھر ابن جریح، ابوالزبیر کی حدیث کو سفیان سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں اور پھر ابن جریح کے ساتھ لیث اور دیگر بھی یہی (ابن جریح والی) حدیث بیان کرتے ہیں۔ اور ابوالزبیر حدیث میں مدبر کی زندگی کی حد بھی بتاتے ہیں۔ اور حماد بن زید، حماد بن سلمہ اور ان کے علاوہ دوسرے (راوی) عمرو کی حدیث کو اکیلے سفیان سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔ حدیث کے حفظ پر استدلال ان غلطیوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے جو میں نے ابن جریح اور لیث کی ابوالزبیر کے واسطہ سے حدیث میں پائی ہیں۔ اور حماد کی حدیث میں جو عمرو کے واسطہ سے ہے، اور حماد کے علاوہ بھی جو عمرو سے روایت ہے، اسے ویسے ہی بیان کرتے ہیں جیسا کہ حماد بن زید نے اس کو بیان کیا ہے۔ اور سفیان بن عیینہ سے پہلے ملاقات کرنے والوں میں سے مجھے کئی ایک نے بتایا کہ وہ اپنی حدیث میں لفظ ”مات“ (وہ مر گیا) بیان نہیں کرتے تھے۔ اور جب میں نے ان کو بتایا کہ میں نے اپنی کتاب میں لفظ ”مات“ پایا ہے تو ان میں سے بعض نے تعجب کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: شاید یہ ان کی غلطی یا لغزش ہے جو میں نے ان سے یاد کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1096
تخریج حدیث اخرجه البيهقي: 10 / 309 ، 311 - وفي المعرفة السنن والآثار له (6075)۔
حدیث نمبر: 1097
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَبَّرَتْ جَارِيَةً لَهَا فَسَحَرَتْهَا، فَاعْتَرَفَتْ بِالسِّحْرِ وَأَمَرَتْ بِهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنْ تُبَاعَ مِنَ الْأَعْرَابِ مِمَّنْ يُسِيءُ مَلَكَتَهَا فَبِيعَتْ. أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ الْأَحَادِيثَ، وَقَوْلَ الشَّافِعِيِّ مِنْ كِتَابِ صِفَةِ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكِتَابِ الْمُدَبَّرِ وَهِيَ جَمِيعُ مَا فِيهِمَا، وَالسَّابِعَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
عمرہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی تھی جسے انہوں نے مدبر کیا ، اس لونڈی نے ان پر جادو کر دیا اور پھر اس نے جادو کا اعتراف بھی کر لیا۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کو ان دیہاتیوں کے پاس بیچ دیا جائے جو اپنے غلاموں سے برا سلوک کرتے ہیں، چنانچہ وہ بیچ دی گئی۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة / حدیث: 1097
تخریج حدیث اخرجه البيهقي: 10 / 313- وفى المعرفة السنن والآثار له (6077) - واحمد : 6 / 50 - والدارقطني : 4/ 140 - وصححه الحاكم (4/219 ، 220)۔