کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: ولاء کی خرید و فروخت اور اسے ہبہ کرنے کی ممانعت کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ولاء کے بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: الْوَلَاءُ بِمَنْزِلَةِ الْحِلْفِ، أُقِرُّهُ حَيْثُ جَعَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى.
حافظ محمد فہد
مجاہد سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ولاء قسم (معاہدے) کی طرح ہے، میں اسے وہیں برقرار رکھوں گا جہاں اسے اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔“
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء کے بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء کے بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ" . [ ص: 19 ] أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ، وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالرَّابِعَ وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ولاء اسی طرح ایک رشتہ ہے جیسے نسب کا رشتہ ہوتا ہے، نہ اسے بیچا جائے اور نہ ہبہ کیا جائے۔“