کتب حدیث › مسند الإمام الشافعي › ابواب › باب: مزدلفہ سے (منیٰ کی طرف) روانگی کا بیان
❮
❯
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ تَرْفَعْ نَاقَتُهُ يَدَهَا وَاضِعَةً حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ.
حافظ محمد فہد
طاؤس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مزدلفہ سے لوٹے اور آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی کو تیز نہیں کیا یہاں تک کہ جمرہ کو کنکریاں ماریں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 1008
تخریج حدیث إسنادہ ضعیف لإرسالہ أخرجہ البیہقی : 5 / 127 - وفی معرفۃ السنن والآثار لہ (3051)۔
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حُوَيْرِثٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاقِفًا عَلَى قُزَحَ، وَهُوَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ أَسْفِرُوا ثُمَّ دَفَعَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى فَخِذِهِ مِمَّا يَخْرِشُ بَعِيرَهُ بِمِحْجَنِهِ.
حافظ محمد فہد
جبیر بن حویرث سے روایت ہے فرمایا: ”میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قزح پہاڑ پر کھڑے دیکھا وہ فرما رہے تھے: اے لوگو! خوب روشنی ہو لینے دو، پھر وہ وہاں سے روانہ ہوئے تو گویا میں آپ کی ران کی طرف دیکھ رہا ہوں جس سے وہ اپنے اونٹ کو لاٹھی کی طرح مار رہے تھے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 1009
تخریج حدیث فی إسنادہ جہالۃ أخرجہ البیہقی : 5 / 125 - وفی معرفۃ السنن والآثار لہ (3048) وابن ابی شیبہ (13881، 15320)۔
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 1010
تخریج حدیث انظر الحدیث الأتی برقم: (1014)۔
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاقِفًا عَلَى قُزَحَ، وَهُوَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ أَصْبِحُوا، ثُمَّ دَفَعَ فَرَأَيْتُ فَخِذَهُ مِمَّا يَخْرِشُ بَعِيرَهُ بِمِحْجَنِهِ.
حافظ محمد فہد
ابوالحویرث سے روایت ہے فرمایا: ”میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قزح پہاڑ پر کھڑے دیکھا وہ کہہ رہے تھے: اے لوگو! خوب صبح ہو لینے دو، پھر آپ لوٹے تو میں نے آپ کی ران کو دیکھا جس سے وہ اپنے اونٹ کو لاٹھی کی طرح مار رہے تھے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 1011
تخریج حدیث فی إسنادہ جہالۃ أخرجہ البیہقی : 5 / 125 - وفی معرفۃ السنن والآثار لہ (3048) وابن ابی شیبہ (13881، 15320)۔
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ ابْنُ أَبِي يَحْيَى أَوْ سُفْيَانُ أَوْ هُمَا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَرِّكُ فِي مُحَسِّرٍ وَيَقُولُ: إِلَيْكَ تَغْدُو قَلِقًا وَضِينُهَا مُخَالِفًا دِينَ النَّصَارَى دِينُهَا . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْحَجِّ مِنَ الْأَمَالِي، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ مُخْتَصَرِ الْحَجِّ الْكَبِيرِ.
حافظ محمد فہد
ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ وادیِ محسر میں اپنے اونٹ کو تیز چلاتے ہوئے یہ شعر کہتے: ”تیری طرف بے قرار ہو کر اس کا کجاوہ چلا آرہا ہے۔ اس کا دین نصاریٰ کے دین کے خلاف ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 1012
تخریج حدیث صحیح من غیر ھذا الطریق أخرجہ البیہقی: 5 / 126 - وفی معرفۃ السنن والآثار لہ (3050) وابن ابی شیبہ (1564)۔