حدیث نمبر: 1008
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ تَرْفَعْ نَاقَتُهُ يَدَهَا وَاضِعَةً حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ.
حافظ محمد فہد
طاؤس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مزدلفہ سے لوٹے اور آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی کو تیز نہیں کیا یہاں تک کہ جمرہ کو کنکریاں ماریں۔
حدیث نمبر: 1009
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حُوَيْرِثٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاقِفًا عَلَى قُزَحَ، وَهُوَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ أَسْفِرُوا ثُمَّ دَفَعَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى فَخِذِهِ مِمَّا يَخْرِشُ بَعِيرَهُ بِمِحْجَنِهِ.
حافظ محمد فہد
جبیر بن حویرث سے روایت ہے فرمایا: ”میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قزح پہاڑ پر کھڑے دیکھا وہ فرما رہے تھے: اے لوگو! خوب روشنی ہو لینے دو، پھر وہ وہاں سے روانہ ہوئے تو گویا میں آپ کی ران کی طرف دیکھ رہا ہوں جس سے وہ اپنے اونٹ کو لاٹھی کی طرح مار رہے تھے۔“
حدیث نمبر: 1010
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
حدیث نمبر: 1011
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاقِفًا عَلَى قُزَحَ، وَهُوَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ أَصْبِحُوا، ثُمَّ دَفَعَ فَرَأَيْتُ فَخِذَهُ مِمَّا يَخْرِشُ بَعِيرَهُ بِمِحْجَنِهِ.
حافظ محمد فہد
ابوالحویرث سے روایت ہے فرمایا: ”میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قزح پہاڑ پر کھڑے دیکھا وہ کہہ رہے تھے: اے لوگو! خوب صبح ہو لینے دو، پھر آپ لوٹے تو میں نے آپ کی ران کو دیکھا جس سے وہ اپنے اونٹ کو لاٹھی کی طرح مار رہے تھے۔“
حدیث نمبر: 1012
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ ابْنُ أَبِي يَحْيَى أَوْ سُفْيَانُ أَوْ هُمَا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَرِّكُ فِي مُحَسِّرٍ وَيَقُولُ: إِلَيْكَ تَغْدُو قَلِقًا وَضِينُهَا مُخَالِفًا دِينَ النَّصَارَى دِينُهَا . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْحَجِّ مِنَ الْأَمَالِي، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ مُخْتَصَرِ الْحَجِّ الْكَبِيرِ.
حافظ محمد فہد
ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ وادیِ محسر میں اپنے اونٹ کو تیز چلاتے ہوئے یہ شعر کہتے: ”تیری طرف بے قرار ہو کر اس کا کجاوہ چلا آرہا ہے۔ اس کا دین نصاریٰ کے دین کے خلاف ہے۔“