کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: واپسی میں جلدی کرنے اور دوپہر کے وقت کوچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1002
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارِ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ [ ص: 275 ] مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ [ ص: 276 ] يَوْمَ النَّحْرِ فَأَمَرَهَا أَنْ تُعَجِّلَ الْإِفَاضَةَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَأْتِيَ مَكَّةَ فَتُصَلِّيَ بِهَا الصُّبْحَ وَكَانَ يَوْمَهَا فَأَحَبَّ أَنْ تُوَافِقَهُ.
حافظ محمد فہد
ہشام بن عروہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ یومِ نحر (قربانی والے دن) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں حکم دیا کہ وہ جلدی سے مزدلفہ سے طوافِ افاضہ کے لیے جائیں۔ یہاں تک کہ وہ مکہ میں آئیں اور یہاں آکر صبح کی نماز پڑھیں اور یہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تھا، آپ ﷺ نے پسند کیا کہ وہ آپ کے ساتھ آملیں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 1002
تخریج حدیث أخرجہ البخاری، الحج، باب من صلی رکعتی الطواف خارجاً من المسجد (1626) بمثلہ۔
حدیث نمبر: 1003
أَخْبَرَنِي مَنْ أَثِقُ مِنَ الْمَشْرِقِيِّينَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حافظ محمد فہد
ایک دوسری سند سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 1003
تخریج حدیث أخرجہ البخاری، الحج، باب من صلی رکعتی الطواف خارجاً من المسجد (1626) بمثلہ۔
حدیث نمبر: 1004
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ: أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ إِذَا حَجَّتْ مَعَهَا نِسَاءٌ تَخَافُ أَنْ يَحِضْنَ قَدَّمَتْهُنَّ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَفَضْنَ، فَإِنْ حِضْنَ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ تَنْتَظِرْ لَهُنَّ أَنْ يَطْهُرْنَ فَتَنْفِرُ بِهِنَّ وَهُنَّ حُيَّضٌ.
حافظ محمد فہد
عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ جب عورتیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حج کرتیں اور انہیں حیض آجانے کا ڈر ہوتا تو عائشہ رضی اللہ عنہا انہیں یوم النحر کو ہی آگے بھیج دیتیں اور وہ طوافِ افاضہ کر لیتیں۔ اور اگر وہ اس کے بعد حائضہ ہو جاتیں تو انہیں طہر کی مہلت نہ دیتیں، بلکہ وہ ان کے ساتھ (مکہ سے) نکلتیں جبکہ وہ حالتِ حیض میں ہوتیں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 1004
تخریج حدیث إسنادہ صحیح أخرجہ مالك فی الموطأ، الحج، باب إفاضۃ الحائض۔
حدیث نمبر: 1005
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَأْمُرُ النِّسَاءَ أَنْ يُعَجِّلْنَ الْإِفَاضَةَ مَخَافَةَ الْحَيْضِ.
حافظ محمد فہد
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا حیض کے ڈر کی وجہ سے عورتوں کو جلدی طوافِ افاضہ کا حکم دیتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 1005
تخریج حدیث إسنادہ صحیح أخرجہ البیہقی فی معرفۃ السنن والآثار (3105)۔
حدیث نمبر: 1006
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُهَجِّرُوا بِالْإِفَاضَةِ، وَأَفَاضَ فِي نِسَائِهِ لَيْلًا عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ أَحْسَبُهُ قَالَ: وَيُقَبِّلُ طَرْفَ [ ص: 278 ] الْمِحْجَنِ.
حافظ محمد فہد
طاؤس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو طوافِ افاضہ جلدی کرنے کا حکم دیا، اور خود اپنی بیویوں میں رات کو طوافِ افاضہ اپنی سواری پر کیا، آپ ﷺ حجرِ اسود کو اپنی لاٹھی سے چھوتے۔ راوی کہتے ہیں: ”میرے خیال میں یہ بھی کہا کہ، پھر لاٹھی کے کنارے کو چومتے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 1006
تخریج حدیث إسنادہ ضعیف لإرسالہ أخرجہ البیہقی: 5 / 101 - وفی معرفۃ السنن والآثار لہ (2989)۔
حدیث نمبر: 1007
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُهَجِّرُوا بِالْإِفَاضَةِ، وَأَفَاضَ فِي نِسَائِهِ لَيْلًا فَطَافَ بِالْبَيْتِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ أَظُنُّهُ قَالَ: وَيُقَبِّلُ طَرَفَ الْمِحْجَنِ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْحَجِّ مِنَ الْأَمَالِي، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.
حافظ محمد فہد
طاؤس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ طوافِ افاضہ جلدی کر لیں، اور آپ ﷺ نے خود اپنی عورتوں کے ساتھ طوافِ افاضہ کیا۔ بیت اللہ کا طواف کیا تو حجرِ اسود کو اپنی لاٹھی سے چھوتے، راوی کہتے ہیں: ”میرے خیال میں انہوں نے کہا، اور لاٹھی کے کنارے کو بوسہ دیتے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 1007
تخریج حدیث إسنادہ ضعیف لإرسالہ أخرجہ البیہقی: 5 / 101 - وفی معرفۃ السنن والآثار لہ (2989)۔