کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: حجرِ اسود کو بوسہ دینے، اسے چھونے اور رش کی صورت میں لوٹ آنے کا بیان
حدیث نمبر: 951
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَتَى الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ مُسَبِّدًا فَقَبَّلَهُ ثُمَّ سَجَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَبَّلَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَبَّلَهُ وَسَجَدَ عَلَيْهِ.
حافظ محمد فہد
محمد بن عباد بن جعفر نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا ابن عباس رضی اللہ عنہما حجرِ اسود کے پاس آئے تو ان کا سر گرد آلود تھا، اس کو بوسہ دیا پھر اس پر سجدہ کیا، پھر اس کو بوسہ دیا اور اس پر سجدہ کیا، پھر اس کو بوسہ دیا اور اس پر سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 952
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ جَاءَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ مُسَبِّدًا رَأْسَهُ فَقَبَّلَ الرُّكْنَ ثُمَّ سَجَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَبَّلَهُ ثُمَّ سَجَدَ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
حافظ محمد فہد
ابو جعفر سے روایت ہے فرمایا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ آٹھ ذی الحجہ کو (مکہ) آئے ان کا سر گرد آلود تھا، انہوں نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا پھر اس پر سجدہ کیا، پھر بوسہ دیا اور اس پر سجدہ کیا، تین مرتبہ اس طرح کیا۔
حدیث نمبر: 953
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: هَلْ رَأَيْتَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَلَمُوا قَبَّلُوا أَيْدِيَهُمْ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَابْنَ عُمَرَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ إِذَا اسْتَلَمُوا قَبَّلُوا أَيْدِيَهُمْ. قُلْتُ: وَابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: نَعَمْ. [ ص: 253 ] وَحَسِبْتُ كَثِيرًا. قُلْتُ: هَلْ تَدَعُ أَنْتَ إِذَا اسْتَلَمْتَ أَنْ تُقَبِّلَ يَدَكَ؟ قَالَ: فَلَمْ أَسْتَلِمْهُ إِذَنْ.
حافظ محمد فہد
ابن جریج نے بیان کیا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو دیکھا کہ جب اس نے استلام کیا ہو تو اپنے ہاتھوں کو چوما بھی ہو؟ عطاء نے کہا: ہاں میں نے جابر بن عبد اللہ، ابن عمر، ابوسعید خدری، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ جب انہوں نے استلام کیا تو اپنے ہاتھوں کو بھی چوما۔ ابن جریج کہتے ہیں میں نے کہا اور ابن عباس نے بھی؟ عطاء نے کہا: ہاں، اور میرے خیال سے بہت زیادہ کو دیکھا۔ ابن جریج کہتے ہیں میں نے کہا، کیا آپ جب استلام کریں تو اپنے ہاتھوں کو نہیں چومتے؟ انہوں نے کہا: (ہاں) تب میں ان کو نہیں چومتا۔
حدیث نمبر: 954
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِذَا وَجَدْتَ عَلَى الرُّكْنِ زِحَامًا فَانْصَرِفْ وَلَا تَقِفْ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرمایا، جب تو رکن (حجرِ اسود) پر رش پائے تو واپس مڑ جا، کھڑا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 955
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ مَنْبُوذِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ: أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهَا مَوْلَاةٌ لَهَا، فَقَالَتْ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ طُفْتُ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَاسْتَلَمْتُ الرُّكْنَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَا آجَرَكِ اللَّهُ لَا آجَرَكِ اللَّهَ، تُدَافِعِينَ الرِّجَالَ أَلَا كَبَّرْتِ وَمَرَرْتِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْحَجِّ مِنَ الْأَمَالِي، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.
حافظ محمد فہد
منبوذ بن ابی سلیمان اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں کہ ان کے پاس ان کی آزاد کردہ لونڈی نے آکر ان سے کہا: ”اے ام المؤمنین! میں نے بیت اللہ کے سات چکر کاٹے اور دو یا تین دفعہ استلام کیا“، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: ”اللہ تجھے ثواب نہ دے، اللہ تجھے ثواب نہ دے، تو مردوں کو ہٹاتی دیتی تھی؟ کیا تو صرف تکبیر کہتی ہوئی نہ گزر گئی؟“