کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: انسان کا اپنا فرض حج اپنی نذر اور دوسرے کے فرض حج پر مقدم رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 922
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْقَدَّاحُ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَسُئِلَ عَنْ هَذِهِ، فَقَالَ: هَذِهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ فَلْيَلْتَمِسْ أَنْ يَقْضِيَ نَذْرَهُ، يَعْنِي لِمَنْ كَانَ عَلَيْهِ الْحَجُّ وَنَذَرَ حَجًّا.
حافظ محمد فہد
زید بن جبیر سے روایت ہے فرمایا: ”میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ان سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: یہ اسلام کا حج ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنی نذر پوری کرے۔“ یعنی جس پر حج فرض ہے اور اس نے حج کرنے کی نذر مان لی۔
حدیث نمبر: 923
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ فُلَانٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنْ كُنْتَ حَجَجْتَ فَلَبِّ عَنْهُ وَإِلَّا فَاحْجُجْ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ احْجُجْ عَنْهُ" .
حافظ محمد فہد
عطاء سے روایت ہے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ: ”میں فلاں کی طرف سے حاضر ہوں۔“ تو نبی ﷺ نے اسے کہا: ”اگر تو نے پہلے حج کیا ہوا ہے تو اس کی طرف سے تلبیہ کہہ، اگر نہیں تو پہلے اپنی طرف سے حج کر، پھر اس کی طرف سے ادائیگی کرنا۔“
حدیث نمبر: 924
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ فُلَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنْ كُنْتَ حَجَجْتَ فَلَبِّ عَنْهُ، وَإِلَّا فَاحْجُجْ" .
حافظ محمد فہد
عطاء سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ: ”میں فلاں کی طرف سے حاضر ہوں۔“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو نے پہلے حج کیا ہوا ہے تو اس کی طرف سے لبیک کہہ اور اگر نہیں تو تو پہلے خود حج کر۔“
حدیث نمبر: 925
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَيْحَكَ وَمَا شُبْرُمَةُ؟ قَالَ: فَذَكَرَ قَرَابَةً لَهُ، فَقَالَ: أَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: "فَاحْجُجْ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ" .
حافظ محمد فہد
ابوقلابہ سے روایت ہے فرمایا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو سنا وہ کہہ رہا تھا: ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تو ہلاک ہو! یہ شبرمہ کیا ہے؟“ اس آدمی نے اپنی شبرمہ سے رشتہ داری کو بیان کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا تو نے اپنی طرف سے پہلے حج کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پہلے اپنی طرف سے حج کر پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“
حدیث نمبر: 926
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ. فَقَالَ: وَيْلَكَ وَمَا شُبْرُمَةُ؟ قَالَ أَحَدُهُمَا: قَالَ: أَخِي، وَقَالَ الْآخَرُ: فَذَكَرَ قَرَابَةً، قَالَ: أَفَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ الْحَجِّ مِنَ الْأَمَالِي.
حافظ محمد فہد
ابوقلابہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا: ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تیرے لیے ویل ہو! یہ شبرمہ کیا ہے؟“ ایوب اور خالد الحذاء میں سے ایک نے کہا کہ اس آدمی نے کہا: ”میرا بھائی ہے۔“ دوسرے نے کہا اس نے اپنی شبرمہ سے رشتہ داری بیان کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تو نے اپنی طرف سے حج کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ حج اپنی طرف سے ادا کرو پھر (بعد میں) شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“