أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ نَظَرَ فِي الْمِرْآةِ وَهُوَ مُحْرِمٌ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے شیشہ دیکھا جبکہ وہ احرام میں تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الْأَزْرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَتَدَلَّتْ فَجَعَلَتْ تُقَدِّمُ يَدًا وَتُؤَخِّرُ أُخْرَى. قَالَ الرَّبِيعُ: أَظُنُّهُ قَالَ عُمَرُ: كَأَنَّ رَاكِبَهَا غُصْنٌ بِمِرْوَحَةٍ إِذَا تَدَلَّتْ بِهِ أَوْ شَارِبٌ ثَمِلُثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ.
حافظ محمد فہد
حسن بن قاسم الازرقی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حالتِ احرام میں اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے تو وہ نخرے کرنے لگی کہ ایک قدم آگے ہوتی اور دوسرا قدم پیچھے رکھتی۔ ربیع نے کہا میرے خیال میں یہ شعر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا اس اونٹنی کا سوار ان ٹہنیوں کی مانند ہے جو تیز ہواؤں میں لٹکن کی مانند جھولتی ہیں یا اس کا سوار پینے والا ہے جو نشہ سے سرشار ہے۔ پھر فرمایا: اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً" .
حافظ محمد فہد
عبد الرحمن بن اسود بن عبد یغوث سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بعض شعروں میں دانائی ہوتی ہے۔“
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: [ ص: 239 ] "الشِّعْرُ كَلَامٌ، حَسَنُهُ كَحَسَنِ الْكَلَامِ، وَقَبِيحُهُ كَقَبِيحِهِ" . أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْحَجِّ مِنَ الْأَمَالِي.
حافظ محمد فہد
ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاعری ایک کلام ہے، اس کی خوبصورتی کلام کی خوبصورتی کی طرح ہے اور اس کی قباحت بھی کلام کی قباحت کی مانند ہے۔“