أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ" .
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ محرم کیسے کپڑے پہنے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قمیص، شلواریں، پگڑیاں، ٹوپیاں اور موزے محرم نہ پہنے۔ اور اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزوں کو ٹخنوں تک کاٹ کر پہن لے۔“
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ: مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ لَهُ: إِنَّهُ لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا لِمَنْ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے دریافت کیا کہ محرم کیسے کپڑے پہنے؟ آپ ﷺ نے اسے کہا: ”وہ (محرم) نہ قمیص پہنے، نہ پگڑی، نہ ٹوپی، نہ شلوار اور نہ ہی موزے پہنے، مگر جس کے پاس جوتے نہیں تو وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر پہن لے۔“
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرَسٍ قَالَ: "فَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ [ ص: 206 ] فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ" .
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ محرم زعفران یا ورس سے رنگا ہوا کپڑا پہنے۔ فرمایا: ”جس کے پاس جوتے نہیں تو وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر پہن لے۔“
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ: أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: "إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ لَبِسَ خُفَّيْنِ، وَإِذَا لَمْ يَجِدْ إِزَارًا لَبِسَ السَّرَاوِيلَ" .
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے: ”جب محرم کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے اور جب وہ تہبند نہ پائے تو شلوار پہن لے۔“
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا [ ص: 207 ] مُحْرِمًا بِحَبْلٍ أَبْرَقَ فَقَالَ: انْزِعِ الْحَبْلَ مَرَّتَيْنِ.
حافظ محمد فہد
ابن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے رنگدار رسی سے احرام باندھا ہوا ہے آپ ﷺ نے دو دفعہ فرمایا : ”رسی اتار دو، رسی اتار دو۔“
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَنَا مَعَهُ فَقَالَ: أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْ ثَوْبِي مِنْ وَرَائِي ثُمَّ أَعْقِدُهُ وَأَنَا مُحْرِمٌ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَا تَعْقِدْ شَيْئًا.
حافظ محمد فہد
مسلم بن جندب سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آیا وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کر رہا تھا جبکہ میں ان کے ساتھ تھا۔ اس آدمی نے کہا: احرام کی حالت میں، میں اپنی چادر کی دونوں طرفوں کو مخالف سمت میں پیچھے کی طرف لے جا کر ان پر گانٹھ لگا دوں؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو بالکل گانٹھ نہ لگا۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ: أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَمْ يَكُنْ عَقَدَ الثَّوْبَ عَلَيْهِ، إِنَّمَا غَرَزَ طَرَفَيْهِ عَلَى إِزَارِهِ.
حافظ محمد فہد
نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جو ان پر کپڑا تھا اس کی گانٹھ نہیں لگائی، بلکہ اس کے دونوں کناروں کو موڑ کر اپنے ازار کے اندر کر لیا۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْعَى بِالْبَيْتِ وَقَدْ حَزَمَ عَلَى بَطْنِهِ بِثَوْبٍ.
حافظ محمد فہد
طاؤوس سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا کہ انہوں نے (احرام کو) ایک کپڑے کے ساتھ اپنے پیٹ پر باندھا ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: أَبْصَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ثَوْبَيْنِ مُضَرَّجَيْنِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الثِّيَابُ؟ فَقَالَ: [ ص: 208 ] عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا أَخَالُ أَحَدًا يُعَلِّمُنَا السُّنَّةَ، فَسَكَتَ عُمَرُ.
حافظ محمد فہد
ابو جعفر سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن جعفر پر احرام کی حالت میں دو رنگے ہوئے کپڑے دیکھے تو پوچھا: یہ کپڑے کیسے ہیں؟ علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں (کسی کی ضرورت) نہیں سمجھتا کہ وہ ہمیں سنت سکھائے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ الَّذِي يُعْرَفُ بِابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ.
حافظ محمد فہد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا کہ کوئی آدمی زعفران کا استعمال کرے۔
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَكْرَهُ لُبْسَ الْمِنْطَقَةِ لِلْمُحْرِمِ. أَخْرَجَ الثَّمَانِيَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَالتَّاسِعَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما محرم کے لیے پیٹی (کمر بند) پہننا ناپسند کرتے تھے۔