حدیث نمبر: 737
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ ص: 163 ] قَالَ فِي زَكَاةِ الْكَرْمِ: "يُخْرَصُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ، ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا" .
حافظ محمد فہد
عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکوۃ کے متعلق فرمایا: ”اس کا اندازہ لگایا جائے گا جس طرح کہ کھجور کے درختوں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ پھر اس کی زکوۃ کشمش میں دی جائے گی جس طرح کہ کھجور کے درختوں کی زکوۃ کھجوروں سے دی جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 738
وَبِإِسْنَادِهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ مَنْ يَخْرِصُ عَلَى النَّاسِ كُرُومَهُمْ وَثِمَارَهُمْ.
حافظ محمد فہد
اس سابقہ سند سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس ان لوگوں کو بھیجتے جو ان کے انگوروں اور پھلوں کا اندازہ لگاتے۔
حدیث نمبر: 739
أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: صَدَقَةُ الثِّمَارِ وَالزُّرُوعِ مَا كَانَ نَخْلًا أَوْ كَرْمًا أَوْ زَرْعًا أَوْ شَعِيرًا أَوْ سُلْتًا فَمَا كَانَ بَعْلًا أَوْ سَقْيًا بِنَهْرٍ أَوْ يُسْقَى بِالْعَيْنِ أَوْ عَثْرِيًّا بِالْمَطَرِ فَفِيهِ الْعُشُورُ وَمِنْ كُلِّ [ ص: 164 ] عَشَرَةٍ وَاحِدٌ، وَمَا كَانَ مِنْهُ يُسْقَى بِالنَّضْحِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ فِي كُلِّ عِشْرِينَ وَاحِدٌ، وَمَا كَانَ مِنْهُ يُسْقَى بِالنَّضْحِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ فِي كُلِّ عِشْرِينَ وَاحِدٌ.
حافظ محمد فہد
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: پھلوں اور کھیتیوں کا صدقہ (زکوۃ) جو کھجوروں یا انگوروں یا کھیتیوں یا جو یا سلت (حجاز میں پیدا ہونے والا جَو جو گیہوں کے مشابہ ہوتا ہے) جو زمین سے تری حاصل کرنے والا ہو، یا نہر سے سیراب کیا گیا ہو، یا چشمہ سے پانی پلایا گیا ہو یا بارش سے سیراب ہوا ہو۔ اس میں عشر (دسواں حصہ) ہے۔ ہر دس سے ایک حصہ ہوگا، اور جس کو پانی کھینچ کر ڈولوں یا جانوروں سے لا کر سیراب کیا گیا اس میں نصف العشر (بیسواں حصہ) ہے ہر بیس میں سے ایک حصہ ہوگا۔ جو کھیت ڈولوں سے پانی نکال کر کھینچا جائے یا جانور پر پانی لا کر اس میں سے بیسواں حصہ (پیداوار کا) لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 740
أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهُمْ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ. قَالَ: وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَهْلِ السَّرَاةِ قَالَ: فَكَلَّمْتُ قَوْمِي فِي الْعَسَلِ، فَقُلْتُ لَهُ: زَكَاةٌ، فَإِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي ثَمَرَةٍ لَا تُزَكَّى. فَقَالُوا: كَمْ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: الْعُشْرُ. فَأَخَذْتُ مِنْهُمُ الْعُشْرَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ مَا كَانَ فَقَبَضَهُ عُمَرُ فَبَاعَهُ، ثُمَّ جَعَلَ ثَمَنَهُ فِي صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِينَ.
حافظ محمد فہد
سعد بن ابی ذباب بیان فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام لایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! میری قوم کے مسلمان لانے کی وجہ سے ان کے مالوں سے کسی کو زکوۃ لینے کے لیے مقرر فرما دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا اور مجھے ان پر عامل مقرر فرما دیا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے عامل بنایا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بھی۔ راوی کہتے ہیں کہ سعد معززین میں سے تھے۔ سعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم سے شہد کے متعلق بات کی اور ان سے کہا: اس میں زکوۃ ہے کیونکہ وہ مال جس سے زکوۃ نہ دی جائے اس میں بہتری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: کتنی ہے؟ سعد کہتے ہیں میں نے کہا: دسواں حصہ ہے۔ سعد کہتے ہیں میں نے ان سے دسواں حصہ لے کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں آگاہ کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کیا، اسے بیچ کر اس کی قیمت کو مسلمانوں کے صدقات میں جمع کر دیا۔
حدیث نمبر: 741
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ [ ص: 165 ] رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَأْخُذُ مِنَ النَّبَطِ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالزَّيْتِ نِصْفَ الْعُشْرِ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يُكَثِّرَ الْحَمْلَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَيَأْخُذُ مِنَ الْقِطْنِيَّةِ الْعُشْرَ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گندم اور تیل، جس کو پانی نکال کر سیراب کیا جاتا، اس سے بیسواں حصہ لیتے تھے۔ وہ اس سے یہ چاہتے تھے کہ کثرت سے اشیاء مدینہ تک پہنچائی جائیں، اور دالوں میں سے دسواں حصہ (عشر) لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 742
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ عَامِلًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَلَى سُوقِ الْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَكَانَ يَأْخُذُ مِنَ النَّبَطِ الْعُشْرَ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ، وَالْخَامِسَ وَالسَّادِسَ مِنْ كِتَابِ الْجِزْيَةِ.
حافظ محمد فہد
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مدینہ کے بازار میں عبد اللہ بن عتبہ کے ساتھ عامل تھا، عبد اللہ بن عتبہ نبطیوں سے عشر لیتے تھے۔