أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ [ ص: 162 ] أُذَيْنَةَ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ فِي الْعَنْبَرِ زَكَاةٌ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ دَسَرَهُ الْبَحْرُ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عنبر میں زکوۃ نہیں ہے، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جس کو دریا کنارے پر پھینک دیتا ہے۔
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أُذَيْنَةَ وَعَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ فِي الْعَنْبَرِ شَيْءٌ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ دَسَرَهُ الْبَحْرُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: عنبر میں کچھ بھی نہیں، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جس کو دریا کنارے پر پھینک دیتا ہے۔