أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُنَّ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ: "اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ [ ص: 79 ] خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ" .
حافظ محمد فہد
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی کے غسل کے وقت فرمایا :”اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ دے سکتی ہو اور غسل کے پانی میں بیری کے پتے ملا لو اور اخر میں کافور یا کچھ کافور کا استعمال کرنا۔“
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَصْحَابِنَا، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: ضَفَرْنَا شَعَرَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهَا وَقَرْنَيْهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ فَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا.
حافظ محمد فہد
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے بالوں کو گوندھا، تین چوٹیاں بنائیں ایک پیشانی کی طرف کے بالوں کی اور دو ادھر ادھر کے بالوں کی اور ان کو پیچھے ڈال دیا۔
أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسِّلَ ثَلَاثًا.
حافظ محمد فہد
ابو جعفر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تین دفعہ غسل دیا گیا۔
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسِّلَ فِي قَمِيصٍ.
حافظ محمد فہد
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو قمیص میں غسل دیا گیا۔
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غُسِّلَ وَكُفِّنَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو غسل دیا گیا، کفن پہنایا گیا اور ان پر نماز جنازہ بھی پڑھی گئی۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَوِ اسْتَقْبَلْنَا مِنْ أَمْرِنَا مَا اسْتَدْبَرْنَا مَا غَسَّلَ [ ص: 81 ] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاؤُهُ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، بیان فرماتی ہیں: اگر پہلے سے ہم کو یہ خیال آتا جو بعد میں آیا تو رسول اللہ ﷺ کو اپ کی عورتوں کے علاوہ اور کوئی نہ غسل دیتا۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ: أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَتْ أَنْ تُغَسِّلَهَا إِذَا مَاتَتْ هِيَ وَعَلِيٌّ فَغَسَّلَتْهَا هِيَ وَعَلِيٌّ. أَخْرَجَ السَّبْعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ.
حافظ محمد فہد
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ نے وصیت کی کہ جب وہ فوت ہو جائیں تو علی رضی اللہ عنہ انہیں غسل دیں۔ جب وہ فوت ہوئیں تو علی رضی اللہ عنہ نے انہیں غسل دیا۔