کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: ہواؤں کو برا بھلا نہ کہنے، اللہ سے ان کی خیر مانگنے اور شر سے پناہ طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 535
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَنْ لَا أَتَّهِمُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَسَبُّوا الرِّيحَ وَعُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا" .
حافظ محمد فہد
صفوان بن سلیم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہوا کو گالی برا بھلا نہ کہو اور اس میں موجود شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔“
حدیث نمبر: 536
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخَذَتِ النَّاسَ رِيحٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَعُمَرُ حَاجٌّ، فَاشْتَدَّتْ، فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَهُ: مَا بَلَغَكُمْ فِي الرِّيحِ؟ فَلَمْ يَرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا، فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عُمَرُ عَنْهُ مِنْ أَمْرِ الرِّيحِ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُ عُمَرَ، وَكُنْتُ فِي مُؤَخَّرِ النَّاسِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "الرِّيحُ [ ص: 69 ] مِنْ رَوْحِ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَبِالْعَذَابِ، فَلَا تَسُبُّوهَا وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا، وَعُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا" .
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں لوگوں کو ہوا نے آ لیا اور عمر رضی اللہ عنہ حج کرنے جا رہے تھے۔ ہوا تیز ہوگئی، عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ارد گرد والوں سے پوچھا: کیا تمہیں ہوا کے بارے میں (نبی ﷺ سے) کچھ حکم پہنچا ہے؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، مجھے اس کی اطلاع ملی جو ہوا کے بارے میں عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا۔ میں نے اپنی اونٹنی دوڑائی یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا، حالانکہ میں لوگوں کے آخر میں تھا۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے ہوا کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ فرما رہے تھے: ”ہوا اللہ کے امر سے ہے جو رحمت اور عذاب دونوں لاتی ہے، اس کو برا بھلا نہ کہو، اللہ سے اس میں موجود خیر کا سوال کرو، اور اللہ سے اس میں موجود شر سے پناہ مانگو۔“
حدیث نمبر: 537
أَخْبَرَنَا مَنْ لَا أَتَّهِمُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَلَاءُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا هَبَّتْ رِيحٌ قَطُّ إِلَّا جَثَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَقَالَ: "اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً وَلَا تَجْعَلْهَا عَذَابًا، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رِيَاحًا وَلَا تَجْعَلَهَا رِيحًا" . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى: أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا [الْقَمَرِ: 19] ، و أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ [الذَّارِيَاتِ: 41] قَالَ: وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ [الْحِجْرِ: 22] ، و يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ [الرُّومِ: 46] . أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ.
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ جب بھی تیز ہوا چلتی تو نبی ﷺ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور پڑھتے: ”اے اللہ ! اس کو رحمت بنا، عذاب نہ بنا، یا اللہ ! اس کو راحت والی بنا اسے آندھی نہ بنا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی کتاب میں ہے اور ہم اللہ نے ان پر تند و تیز مسلسل چلنے والی ہوا بھیجی۔ (القمر: 19) اور ہم نے ان پر خیر و برکت سے خالی آندھی بھیجی۔ (الذاريات: 41) اور ہم بوجھل ہوائیں بھیجتے ہیں۔ (الحجر: 22) اور خوشخبریاں دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے۔ (الروم: 46)