کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: عید اور جمعہ ایک ہی دن ہونے اور فتنہ و فساد کے حالات میں عید قائم کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ فَلْيَجْلِسْ فِي غَيْرِ حَرَجٍ" .
حافظ محمد فہد
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے زمانے میں جمعہ اور عید اکٹھے (ایک ہی دن) آگئے، آپ ﷺ نے مدینہ کے اطراف بلندی پر واقع آبادی والوں سے فرمایا: ”ان دونوں میں سے کسی سے بغیر کسی عذر کے (گھر) بیٹھنا چاہے تو اس کو اجازت ہے۔“
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ فَلْيَنْتَظِرْهَا، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَلْيَرْجِعْ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ.
حافظ محمد فہد
ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام ابو عبید سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ میں عید کی نماز پڑھنے کے لیے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید گاہ آیا، آپ نے نماز پڑھائی پھر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا : آج کے دن تمہارے لیے دو عیدیں اکٹھی آگئی ہیں اور جو کوئی مدینہ کے اطراف میں بلائی آبادی کے رہنے والوں میں سے جمعہ کا انتظار کرنا چاہتا ہے وہ اس کا انتظار کرے اور جو کوئی واپس جانا چاہتا ہے چلا جائے میری طرف سے اجازت ہے۔
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ.
حافظ محمد فہد
ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام ابو عبید سے روایت ہے کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید کی نماز پڑھنے کے لیے حاضر ہوا جبکہ عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے۔