حدیث نمبر: 919
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الْأَزْرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَتَدَلَّتْ فَجَعَلَتْ تُقَدِّمُ يَدًا وَتُؤَخِّرُ أُخْرَى. قَالَ الرَّبِيعُ: أَظُنُّهُ قَالَ عُمَرُ: كَأَنَّ رَاكِبَهَا غُصْنٌ بِمِرْوَحَةٍ إِذَا تَدَلَّتْ بِهِ أَوْ شَارِبٌ ثَمِلُثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ.
حافظ محمد فہد

حسن بن قاسم الازرقی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حالتِ احرام میں اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے تو وہ نخرے کرنے لگی کہ ایک قدم آگے ہوتی اور دوسرا قدم پیچھے رکھتی۔ ربیع نے کہا میرے خیال میں یہ شعر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا اس اونٹنی کا سوار ان ٹہنیوں کی مانند ہے جو تیز ہواؤں میں لٹکن کی مانند جھولتی ہیں یا اس کا سوار پینے والا ہے جو نشہ سے سرشار ہے۔ پھر فرمایا: اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 919
تخریج حدیث إسناده ضعيف لجهالة عبد الرحمن بن الحسن بن القاسم وأبيه أخرجه البيهقي 5 / 68 - وفي المعرفة السنن والآثار له (2895)۔