مسند الإمام الشافعي
كتاب العيدين والأضاحي والاستسقاء— عیدین ، قربانی اور استسقا کے مسائل
بَابُ اجْتِمَاعِ الْعِيدِ وَالْجُمُعَةِ وَإِقَامَةِ الْعِيدِ فِي الْفِتْنَةِ باب: عید اور جمعہ ایک ہی دن ہونے اور فتنہ و فساد کے حالات میں عید قائم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 500
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ فَلْيَجْلِسْ فِي غَيْرِ حَرَجٍ" .حافظ محمد فہد
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے زمانے میں جمعہ اور عید اکٹھے (ایک ہی دن) آگئے، آپ ﷺ نے مدینہ کے اطراف بلندی پر واقع آبادی والوں سے فرمایا: ”ان دونوں میں سے کسی سے بغیر کسی عذر کے (گھر) بیٹھنا چاہے تو اس کو اجازت ہے۔“