مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا باب: پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی فروخت کی ممانعت
حدیث نمبر: 1419
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا تُزْهِي؟ قَالَ: "حَتَّى تَحْمَرَّ" . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَرَأَيْتُمْ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ" ؟ .حافظ محمد فہد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کو ”زہو“ سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، تو پوچھا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ زہو کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہاں تک کہ وہ سرخ ہو جائیں۔“ اور پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، جب اللہ کے حکم سے پھلوں پر آسمانی آفت آ جائے تو تم اپنے بھائی کا مال کس چیز کے عوض لو گے؟“