مسند الإمام الشافعي
كتاب الرجعة— رجوع (طلاق کے بعد دوبارہ رجوع) کا بیان
بَابُ مَا كَانَ مِنَ الطَّلَاقِ وَالرَّجْعَةِ باب: طلاق اور رجوع کے ابتدائی احکام کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ، وَإِنْ طَلَّقَهَا أَلْفَ مَرَّةٍ فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ لَهُ، فَطَلَّقَهَا ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا شَارَفَتِ انْقِضَاءَ عِدَّتِهَا، ارْتَجَعَهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا آوِيكِ إِلَيَّ وَلَا تَحِلِّينَ أَبَدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ [الْبَقَرَةِ: 229] فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلَاقَ جَدِيدًا مِنْ يَوْمَئِذٍ مَنْ كَانَ مِنْهُنَّ طَلَّقَ أَوْ لَمْ يُطَلِّقْ.عروہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا (اسلام سے پہلے دستور تھا) کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا پھر اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے اس سے رجوع کر لیتا، اگرچہ وہ اسے ہزار مرتبہ طلاق دیتا تب بھی آدمی اپنی بیوی کی طرف دوبارہ رجوع کر لیتا۔ پھر ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد مہلت دے دی، یہاں تک کہ جب اس کی عدت ختم ہونے والی ہوتی، وہ اس سے رجوع کر لیتا پھر طلاق دے دیتا، اور وہ کہتا: ”اللہ کی قسم نہ میں تجھے بساؤں گا اور نہ ہی تجھے آزاد کروں گا“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”یہ طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو دستور کے مطابق روکنا ہے یا اچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔“ (البقرہ: 229) اس آیت کے نزول کے بعد لوگوں نے نئے سرے سے طلاق کا خیال رکھنا شروع کیا، جس نے ان میں سے طلاق دی تھی یا نہ دی تھی۔