مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ مَنْ تَزَوَّجَ مُطَلَّقَتَهُ بَعْدَ مَا تَزَوَّجَتْ غَيْرَهُ فَهِيَ عِنْدَهُ باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی مطلقہ سے، اس کے کسی دوسرے شخص سے نکاح کے بعد، دوبارہ نکاح کیا تو وہ اسی کے پاس رہے گی
حدیث نمبر: 1276
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ غَيْرُهُ ثُمَّ طَلَّقَهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا ثُمَّ تَزَوَّجَهَا زَوْجُهَا الْأَوَّلُ؟ قَالَ: هِيَ عِنْدَهُ مَا بَقِيَ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الرَّجْعَةِ.حافظ محمد فہد
حمید بن عبد الرحمن بن عوف، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اہل بحرین کے اس آدمی سے متعلق پوچھا جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں پھر اس کی عدت ختم ہوگئی، تو اس کے ساتھ ایک دوسرے آدمی نے نکاح کر لیا، پھر اس نے بھی اسے طلاق دے دی یا وہ فوت ہو گیا، پھر دوبارہ اس عورت سے پہلے خاوند نے نکاح کر لیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اب اس خاوند کو بقیہ (طلاق) کا اختیار ہوگا۔“