مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ الطَّلَاقِ قَبْلَ الْمَسِّ وَنِصْفِ الصَّدَاقِ باب: ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دینے اور آدھے مہر کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 1274
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ فَيَخْلُو بِهَا وَلَا يَمَسُّهَا، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا: لَيْسَ لَهَا إِلَّا نِصْفُ الصَّدَاقِ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ [الْبَقَرَةِ: 237] .حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے اس آدمی کے متعلق فرمایا جس نے شادی کے بعد خلوت اختیار کی لیکن ہم بستری نہیں کی، پھر اس نے بیوی کو طلاق دے دی، کہ اس پر آدھا حق مہر واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اور تم انہیں طلاق دو ہاتھ لگانے سے پہلے، اور تم نے حق مہر بھی مقرر کر دیا ہو تو جو تم نے مقرر کیا اس کا نصف دے دو (البقرہ: 237)“۔