مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ الطَّلَاقِ قَبْلَ الْمَسِّ وَنِصْفِ الصَّدَاقِ باب: ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دینے اور آدھے مہر کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 1273
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لِكُلِّ مُطَلَّقَةٍ مُتْعَةٌ إِلَّا الَّتِي يُطَلِّقُهَا وَقَدْ فُرِضَ لَهَا صَدَاقٌ وَلَمْ تُمَسَّ فَحَسْبُهَا مَا فُرِضَ لَهَا.حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرمایا کرتے تھے، ہر طلاق یافتہ عورت کے لیے متعہ طلاق ہے سوائے اس کے جس کا حق مہر مقرر کیا گیا پھر اس سے ہم بستری سے پہلے اسے طلاق دے دی گئی تو اس کے لیے وہی حق مہر شمار ہوگا جو اس کے لیے مقرر کیا گیا۔