مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ الطَّلَاقِ قَبْلَ الْمَسِّ وَنِصْفِ الصَّدَاقِ باب: ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دینے اور آدھے مہر کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 1271
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَيْسَ لَهَا إِلَّا نِصْفُ الْمَهْرِ وَلَا عِدَّةٌ عَلَيْهَا. يَعْنِي لِمَنْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً [الْبَقَرَةِ: 237] . وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا [الْأَحْزَابِ: 49] .حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرمایا: ”اس کے لیے حق مہر آدھا ہے اور اس پر عدت بالکل نہیں ہے، یعنی وہ عورت جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اگر تم عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو، اور تم نے حق مہر بھی مقرر کر دیا ہو (البقرہ: 237) اور اللہ تعالیٰ کے فرمان: پھر تم انہیں ہم بستری سے پہلے طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت نہیں جسے تم شمار کرو (احزاب: 49)“۔