مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ تَخْيِيرِ الْأَمَةِ إِذَا عَتَقَتْ باب: لونڈی کو آزاد ہونے پر (اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ: أَنَّ مَوْلَاةً لِبَنِي عَدِيٍّ، يُقَالُ لَهَا: زَبْرَاءُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ أَمَةٌ فَعَتَقَتْ. قَالَتْ: فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ فَدَعَتْنِي فَقَالَتْ: إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا، وَلَا أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكِ مَا لَمْ يَمَسَّكِ زَوْجُكِ، قَالَتْ: فَفَارَقَتْهُ ثَلَاثًا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَمْ تَقُلْ لَهَا حَفْصَةُ: لَا يَجُوزُ أَنْ تُطَلَّقِي ثَلَاثًا.عروہ سے روایت ہے کہ بنی عدی کی آزاد کردہ لونڈی جس کا نام زبراء تھا اس نے اسے بتایا کہ وہ جب لونڈی تھی تو اس وقت ایک غلام کے نکاح میں تھی، اس کو اس کے آقا نے آزاد کر دیا، فرماتی ہے، حفصہ رضی اللہ عنہا نے میری طرف پیغام بھیج کر مجھے بلایا اور فرمایا: ”میں تجھے ایک بات بتانے لگی ہوں اور میں نہیں چاہتی کہ تو کچھ کرے، وہ یہ کہ اب تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے جب تک کہ تیرا خاوند تجھ سے ہم بستری نہ کرے“، وہ کہتی ہیں کہ اس نے اس کو تین دفعہ علیحدہ کر دیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اسے یہ نہیں کہا کہ تیرے لیے اسے تین طلاقیں دینا جائز نہیں ہے۔