مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ تَخْيِيرِ الْأَمَةِ إِذَا عَتَقَتْ باب: لونڈی کو آزاد ہونے پر (اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ مَوْلَاةً لِبَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، يُقَالُ لَهَا: زَبْرَاءُ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، وَهِيَ أَمَةٌ يَوْمَئِذٍ فَعَتَقَتْ، قَالَتْ: [ ص: 107 ] فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْنِي، فَقَالَتْ: إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا، وَلَا أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا، إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكِ مَا لَمْ يَمَسَّكِ زَوْجُكِ، قَالَتْ: فَفَارَقَتْهُ ثَلَاثًا.عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بنی عدی بن کعب کی آزاد کردہ لونڈی جس کا نام زبراء تھا اس نے انہیں بتایا کہ وہ ایک غلام کے نکاح میں تھی، اور وہ اس وقت لونڈی تھی کہ اس کے آقا نے اسے آزاد کر دیا، وہ کہتی ہیں کہ نبی ﷺ کی بیوی حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کی طرف پیغام بھیج کر انہیں بلایا اور فرمایا: ”میں تجھے ایک بات بتانے لگی ہوں، اور میں پسند نہیں کرتی کہ تو کچھ کرے۔ وہ یہ کہ تیرا معاملہ اب اس وقت تک تیرے ہاتھ میں ہے جب تک کہ تیرا خاوند تیرے ساتھ ہم بستری نہ کرے“، تو اس نے اس کو خاوند سے تین مرتبہ علیحدگی اختیار کر لی۔