مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ طَلَاقِ الْعَبْدِ وَإِنَّهَا تَحْرُمُ عَلَيْهِ بِاثْنَتَيْنِ باب: غلام کی طلاق کا بیان اور یہ کہ اس پر دو طلاقوں سے حرمت ہو جاتی ہے
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ نُفَيْعًا مُكَاتِبًا لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ عَبْدٌ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ فَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ، [ ص: 104 ] ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا. فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَذَهَبَ إِلَيْهِ فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذًا بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُمَا فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعًا فَقَالَا: حَرُمَتْ عَلَيْكَ حَرُمَتْ عَلَيْكَ.سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نفیع، جنہوں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مکاتبت کی تھی، ان کے نکاح میں ایک آزاد عورت تھی، انہوں نے اس کو دو طلاقیں دے دیں، پھر اس سے رجوع کرنا چاہا تو انہیں نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات نے کہا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھ لو۔ وہ ان کے پاس گیا تو وہ اسے درج کے مقام پر ملے اور انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ اس نے ان دونوں سے سوال کیا، تو ان دونوں نے فوراً جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”وہ تجھ پر حرام ہو چکی، وہ تجھ پر حرام ہو چکی“۔